Home Blog Page 118

The Khyber Pakhtunkhwa Commission on the status of Women is playing a vital role in protecting women’s rights, promoting gender equality and effectively implementing policies related to women in government institutions across the province.

The Khyber Pakhtunkhwa Commission on the status of Women is playing a vital role in protecting women’s rights, promoting gender equality and effectively implementing policies related to women in government institutions across the province. According to the spokesperson, the main objective of the commission is to monitor incidents of discrimination, violence or injustice against women in the province and provide timely recommendations and guidance to the relevant institutions to ensure women’s rights.

Chairperson of the commission, Dr. Sumera Shams, said that the The Khyber Pakhtunkhwa Commission on the status of Women is an independent institution that works on policy-level reforms, recommendations and institutional accountability to solve women’s problems. It monitors the performance of all government institutions across the province through an online monitoring system to ensure effective implementation of laws and government policies related to the protection of women’s rights.

Dr. Sumera Shams added that the commission is taking steps to eliminate gender-based discrimination, prevent violence against women, and promote women’s participation in the decision-making process by staying in touch with various departments and institutions. She said that protecting women’s rights is not possible through legislation alone, but for this, positive change in social attitudes and institutional transparency are necessary.

The Chairperson, while shedding light on her future vision, said that the commission will make the digital monitoring system more effective across the province so that all cases, complaints and records of government performance related to women’s rights are automatically saved and analyzable.

Dr. Sumera Shams said that our goal is to create a Khyber Pakhtunkhwa where women have opportunities to live with equality, security and dignity. The commission will continue to carry out its responsibilities with transparency, impartiality and integrity so that women’s rights can be protected.

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی امور کا جائزہ اجلاس، لوکل گورنمنٹ کمیشن کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی ہدایت

خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی شاہ فہد، اربن ایریاز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر مختیار احمد، لوکل کونسل بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ بلدیات کے مجموعی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر بلدیات کو پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اربن ایریاز ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر باڈیز کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔وزیر بلدیات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن خیبرپختونخوا کے ممبران کی تعداد کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس کی آمدنی محکمہ بلدیات کو نہ ملنا سمجھ سے باہر ہے۔مینا خان آفریدی نے واضح کیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو برداشت کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی ملوث ملازم کو گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ ریونیو جنریشن کے حوالے سے آئندہ ہفتے تک ایک جامع پلان پیش کیا جائے۔مزید برآں، وزیر بلدیات نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے مسافروں کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل پر جلد کام شروع کیا جائے جبکہ اربن ایریاز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے تنبیہ کی کہ محکمہ بلدیات کے ملازمین اپنی تشہیر کے بجائے حکومتی اقدامات کی برانڈنگ کریں اور کوئی بھی سرکاری ملازم خدمات کی انجام دہی کے دوران ہیرو بننے کی کوشش نہ کرے۔وزیر بلدیات نے کہا کہ وہ محکمہ بلدیات کے ہر ملحقہ ادارے کے امور کا خود جائزہ لیں گے تاکہ شفافیت اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی حکومت کے گورننس روڈمیپ کے تحت تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے گڈ گورننس روڈمیپ اقدامات پر جائزہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں سیکرٹری تعلیم سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو اجلاس میں تعلیم کے شعبے میں جاری تعلیمی اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے تمام اہداف آن ٹریک ہیں۔ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی رپورٹ کیمطابق اکتوبر میں سکولوں میں اساتذہ کی 90 فیصد حاضری یقینی بنائی گئی۔طلباء کی ذہنی و جسمانی نشوونما کیلئے اضلاع کی سطح پر کھیلوں کے مقابلے جاری جبکہ اگلے مرحلے میں صوبائی سطح پر مقابلے ہوں گے۔ جن پرائمری سکولوں میں کمرے کم اور بچے زیادہ ہیں ان سکولوں میں ایک ہزار اضافی کمرے بنائے جارہے ہیں۔ پی ٹی سی کے ذریعے سکولوں میں 10 ہزار اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جارہا ہے۔ سکولوں کی آوٹ سورسنگ پر روڈ شو کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں تعلیم کے شعبہ سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا۔ ٹیلی تعلیم کے فیز 2 میں تعلیمی ہب بنایا جارہا ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے اساتذہ آوٹ آف سکول بچوں اور اساتذہ کی کمی والے سکولوں میں آن لائن کلاسز لیں گے۔ جن سکولوں میں اساتذہ کی کارکردگی کمزور ہے وہاں بھی آن لائن کلاسز کے ذریعے بچوں کو تعلیم دی جائے گی۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔ معاشرے کی ترقی میں معیاری تعلیمی نظام کا اہم کردار ہے جس پر حکومت خیبرپختونخوا مسلسل کام کررہی ہے۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا ہنگامی دورہ کیا

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا ہنگامی دورہ کیا اس دورے میں ان کے ساتھ سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور ایچ ایم سی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے اس دورے میں انہوں نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے مختلف یونٹس کا ایمرجنسی او پی ڈی اور دیگر وارڈز کا بھی دورہ کیا اس کے علاوہ ایم آر آئی سیکشن دیکھی،لیبارٹریز اور ادویات کے سینٹرز کا بھی دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا بھی جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کے اس ہنگامی دورے کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اس بات کی تسلی ہو کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے اور اور جہاں جہاں کوتاہی یا کمی ہے اس کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ہسپتال کے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں آئے ہوئے مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کی جائے گی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ایک بڑا ادارہ ہے اور اس کی مزید بہتری کے لیے جو بھی اقدامات اٹھانے پڑے اٹھائے جائیں گے۔

صوبائی وزیر برائے صحت خلیق الرحمانے خیبر انسٹیٹیوٹ اف چائلڈ ہیلتھ کا دورہ کیا

صوبائی وزیر برائے صحت خلیق الرحمانے خیبر انسٹیٹیوٹ اف چائلڈ ہیلتھ کا دورہ کیا جہاں سیکرٹری صحت شاہداللہ خان نے اور متعلقہ ممبران نے صوبائی وزیر کو اس ہسپتال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ خیبر انسٹیٹیوٹ اف چایلڈ ہیلتھ خیبر پختونخوا میں بچوں کے علاج کا واحد ادارہ ہے جس کو مکمل کرنا اور فنکشنل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ادارہ پی ایس ڈی پی سکیم (فیڈرل) کے تحت بننا تھا جس پر 2013 میں کام شروع ہوا لیکن بدقسمتی سے 12 سال میں بھی یہ فنکشنل نا ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ وفاق سے فنڈز کی فراہمی میں تعطل اور عدم فراہمی تھا۔ نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر اس منصوبے کی تکمیل ایمرجنسی بنیادوں پر کرینگے۔ یہ 7.9 بلین روپے کے خطیر رقم کا منصوبہ ہے۔ صوباء وزیر خلیق الرحمان اور سیکٹری صحت نے کنسلٹنٹ اور سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ کوہدایات جاری کیں کہ 31 دسمبر تک اس کو مکمل کیا جائے اور اس منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی مزید کوتاہی برداشت نہی ہوگی۔ صوبائی وزیر نے تاکید کی کہ یہ بچوں کو علاج اور سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے اور اس ہسپتال کی تکمیل اور فنکشنل کرنے میں ہم سب نے ایمانداری اور خلوص نیت سے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمہ صحت کی طرف سے تمام فنڈز جاری کئے جا چکے ہیں اور اب اس کی تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہی ہوگی۔

مور کی بہتر انجام دہی کے لیے بھرپور ہم اہنگی یقینی بنایا جائے، عاقب اللہ خان، صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر محکمانہ امور کی بہتر انجام دہی کے لیے موثر ہم اہنگی ضروری ہے۔ درکار اقدامات اور مسائل کے حل کے لیے مل کر عملی اقدامات اٹھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے اغرض و مقاصد اور جاری امور سے متعلق تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو 1122 اور ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے علاوہ دیگر اعلی حکام بھی شریک تھے۔ اس موقع پر پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھاٹی، ریسکیو 1122 اور ڈائریکٹریٹ اف سول ڈیفنس کے زیر انتظام جاری اور مجوزہ امور سے متعلق صوبائی وزیر کو تفصیلات سے اگاہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر عاقب اللہ خان کو محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے زیر نگرانی قبائل اضلاع میں اقدامات اور خدمات سے متعلق بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات، ہنگامی صورتحال سے متاثرہ لوگوں کی بحالی و آبادکاری جیسے امور میں محکمہ ریلیف بحالی و آبادکاری کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے زندگی اور معمولات بحال کرانے جیسے ذمہ داریوں کو أحسن طریقے سے نبھانے پر بھی زور دیا۔

نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہے، انکی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے، تاج محمد ترند

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد ترند جمعرات کے روز نظامت امور نوجوانان کا دورہ کیا، جہاں انہیں مختلف سیکشنز کا تفصیلی معائنہ کرایا گیا اور محکمے کی کارکردگی، ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبوں سمیت درپیش مسائل پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان سعادت حسن ز ڈائریکٹر جنرل تاشفین حیدر، ڈائریکٹر یوتھ افئیر ز نعمان مجاہد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے،اس موقع پر مشیرِ وزیرِ اعلیٰ تاج محمد ترند نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ٹھیکیدار کو ایڈوانس پیمنٹ نہیں دی جائے گی، ادائیگی صرف کام مکمل ہونے کے بعد ہوگی۔ محکمے میں زیرو کرپشن ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا، اس موقع پر ڈائریکٹر نعمان مجاہد نے مشیر وزیراعلی کو محکمے کو درپیش مشکلات و دیگر مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز نے مشیرِ وزیرِ اعلیٰ کو محکمہ کی سرگرمیوں اور آئندہ کے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی فلاح کے لیے انٹرنشپ پروگرامز، لیپ ٹاپ سکیم اور آسان اقساط پر قرضوں کے مزید پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں، جن سے صوبے کی نوجوان نسل کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ مشیرِ وزیرِ اعلیٰ نے محکمے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے جاری منصوبوں کو سراہا اور کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نوجوانوں کی ترقی و انکو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ہماری ابادی زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہی ہمارا قیمتی سرمایہ ہے، بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرینگے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

نو تعینات معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان کا دورہ اطلاع سیل

معاونِ خصوصی اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے گزشتہ روز محکمہ اطلاعات کے اطلاع سیل سیکشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انچارج اطلاع سیل ڈپٹی ڈائریکٹر نثار محمد نے معاون خصوصی کو تفصیل بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اطلاع سیل میڈیا مانیٹرنگ، نیوز کلپنگ، میڈیا ٹرینڈز کے تجزیے اور حکومتی بیانیے کی مؤثر تشہیر کے لیے 24/7 کام کرتا ہے۔ اس سیل کے ذریعے صوبائی حکومت کے فلاحی اقدامات اور پالیسیوں کی بروقت اور درست معلومات عوام اور میڈیا تک پہنچائی جاتی ہیں۔معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے اس موقع پر انفارمیشن سیل کے افسران اور عملہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا مانیٹرنگ اور معلومات کی بروقت فراہمی جدید طرز حکمرانی کا ایک اہم حصہ ہے۔ محکمہ اطلاعات کا یہ یونٹ نہ صرف حکومتی اقدامات کو درست انداز میں سامنے لانے میں مدد دیتا ہے بلکہ غلط معلومات کی روک تھام اور مؤثر پالیسی کمیونیکیشن میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کے تقاضوں کے مطابق مزید مستحکم کیا جائے گا، تاکہ حکومتی بیانیہ مؤثر، منظم اور مربوط انداز میں عوام تک پہنچ سکے۔

صوبائی وزیر آبپاشی خیبرپختونخوا ریاض خان نے کہا ہے کہ قائد عمران خان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دراصل ہر پاکستانی کے ساتھ ناانصافی ہے

صوبائی وزیر آبپاشی خیبرپختونخوا ریاض خان نے کہا ہے کہ قائد عمران خان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دراصل ہر پاکستانی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر کارکن، ہر نمائندہ اور ہر باشعور شہری اپنے قائد کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہر محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا قائد عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ نہ صرف ایک سیاسی ضرورت ہے بلکہ موجودہ حالات میں انصاف، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک مثبت اور جرات مندانہ قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پُرامن طریقے سے انصاف کے حصول کے لیے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ عمران خان کا ویژن شفافیت، انصاف اور عوامی خدمت پر مبنی ہے اور ہم اس ویژن کی تکمیل کے لیے ہر محاذ پر ثابت قدم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزراء اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ ریاض خان نے کہا کہ ان کی یہ موجودگی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قائد عمران خان سے ملاقات اور ان کے زیر التواء مقدمات میں غیر معمولی تاخیر کے خلاف ایک پُرامن مگر مؤثر احتجاج کی علامت ہے۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے کہا کہ دو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف کی فراہمی میں جاری تاخیر نے نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں بلکہ آئین پاکستان کی روح اور عوام کے اعتماد کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد عمران خان ہمارے قومی قائد ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے عوام کے حقوق، شفافیت اور انصاف کی بات کی ہے۔ آج جب ان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہوں اور حق و سچ کی حمایت کریں۔ریاض خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی کابینہ مکمل طور پر متحد اور پرعزم ہے۔ ہم قائد عمران خان کے ویژن، شفاف طرز حکمرانی، عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کی تکمیل کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا علامتی احتجاج پُرامن ہے اور اس کا مقصد صرف انصاف کی فراہمی اور آئینی اصولوں کا تحفظ ہے ہم چاہتے ہیں کہ عدالتوں میں انصاف بلا تاخیر فراہم ہو اور ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہو۔

صوبے میں آئس نشے کے خلاف آپریشن،پشاور میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والا گروہ گرفتار

صوبے میں آئس نشے کی عفریت سے نوجوان نسل کو بچانے اور اس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے تدارک کے لیے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے ایمرجنسی بنیادوں پر کاروائیاں شروع کردی گئی ہیں جسکے سلسلے میں پشاور میں ایک اہم کارروائی کے دوران تعلیمی اداروں کے طلباء کو آئس فراہم کرنے والے گروہ کے سرغنہ سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور حالیہ احکامات کی روشنی میں، سیکریٹری ایکسائز خالد الیاس اور ڈائریکٹر جنرل عبدالحلیم خان کی نگرانی میں صوبے بھر میں آئس کے خلاف ہنگامی کارروائیاں جاری ہیں۔ پراوینشل انچارج بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن سعود خان گنڈا پور اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) ماجد خان کی قیادت میں فخر عالم خان انسپکٹر اور حمزہ شاروم خان سب انسپکٹر پر مشتمل EIB سکواڈ نے حیات آباد کے علاقے شاکس مدرسہ کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے طلباء کو آئس سپلائی کرنے والے ملزمان طارق، ابراہیم اور سعود رشید کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 500 گرام آئس برآمد کر لی۔ملزمان کے خلاف مقدمہ تھانہ ایکسائز خیبر میں درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔صوبائی وزیر سید فخر جہان نے معاشرے سے آئس کے سماجی زہر کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہ برتنے کے واضح احکامات محکمہ کو جاری کیئے ہیں اور اس سلسلے میں محکمہ ایکسائز کو نوجوان نسل کے تحفظ کیلئے پہلی دفاعی اور ایکشن لائن کے طور پر اقدامات اٹھانے کی ہیدایت کی ہے جبکہ محکمہ کو اس ناسور کے حوالے سے پندرہ روز کا ڈیڈ لائن بھی دیا ہے۔