عمائدین مکالمہ: بیرسٹر ڈاکٹر سیف کاعوامی روابط پر زور، وفاقی حکومت کی بے حسی پر کڑی تنقید

پشاور میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے زیر اہتمام پاک افغان قبائلی عمائدین مکالمہ منعقد ہوا جس میں سرحد کے دونوں اطراف سے عمائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل پر اظہارِ خیال کیا۔اپنے خطاب میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو محض جغرافیہ نہیں باندھتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط رشتے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارا سب سے مضبوط رشتہ مذہب ہے، ہماری ثقافتیں، روایات اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاستی سرحدیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عوام ایک ہی ہیں۔”انہوں نے واضح کی دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کے درمیان تنازعات صدیوں پر محیط رہے، لیکن پائیدار امن ہمیشہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوا۔ انہوں نے کہا،“یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ جیسی تباہ کن جنگ بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوئی۔ ہمارے لیے سبق بالکل واضح ہے: مکالمہ کوئی اختیار نہیں بلکہ واحد راستہ ہے۔”مشیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس خطے کے عام عوام ہی عدم استحکام کے سب سے بڑے متاثرین ہیں جبکہ چند عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارے خطے کی ترقی کا درد کسی اور کو نہیں۔ اگر ہم نے خود اتحاد اور استحکام قائم نہ کیا تو کوئی دوسرا ہمارے لیے یہ کام نہیں کرے گا۔ آج ہمارے فیصلے ہی طے کریں گے کہ ہماری آئندہ نسلیں جنگ وراثت میں پائیں گی یا امن۔”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے امریکی انخلا کے بعد پاک افغان تعلقات میں پیدا ہونے والے خلا پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ“امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک سال سے زائد عرصہ کوئی باضابطہ سرکاری دورہ افغانستان کا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کابل میں سفیر تک تعینات نہیں کیا گیا۔ یہ بے عملی خطرناک خلا پیدا کر رہی ہے جو اعتماد کو کمزور اور غلط فہمیوں کو فروغ دیتی ہے۔”انہوں نے وفاقی حکومت کی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ“افغانستان کے دورے کے لیے وفود کی تجاویز بار بار پیش کی گئیں مگر یا تو روک دی گئیں یا نظرانداز ہوئیں۔ ایسی سخت رویہ داری فاصلے مزید بڑھاتا ہے۔ سرحدی عوام اسلام آباد کی بے عملی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر روابط اور مکالمے کو فروغ دینا چاہیے، روکنا نہیں۔”خطاب کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صرف ریاستی قیادت سے تعلقات کی بہتری کی توقع کافی نہیں۔“یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے، دونوں ممالک کے عوام پر۔ ہماری آوازیں، ہمارا اتحاد اور ہمارا مکالمہ ہی امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔”انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایسے تمام پلیٹ فارمز کی حمایت جاری رکھے گا جو باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں