Home Blog

مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور کا ضلع کرک میں ڈی ایس پی عمران الدین خان سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر اور فرض شناس افسران و اہلکاروں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ شہدا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے فرض شناسی، بہادری اور عوام کے تحفظ کے عزم کی روشن مثال قائم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی عمران الدین خان، ایس آئی افضل اعوان، پولیس اہلکار کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خیبرپختونخوا پولیس کے جوانوں کی یہ قربانیاں دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں۔مشیرِ اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ صوبے کے بہادر پولیس اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ثمر ہارون بلور نے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام تک جدوجہد جاری رہے گی اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

سرکاری مقدمات میں مؤثر قانونی دفاع، بروقت پیروی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی اٹارنیز اس امر کے پابند ہوں گے

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امور عامر جاوید نے کہا ہے کہ سرکاری مقدمات میں مؤثر قانونی دفاع، بروقت پیروی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی اٹارنیز اس امر کے پابند ہوں گے کہ مقدمہ جیتنے یا ہارنے کی صورت میں فیصلے کے ساتھ اپنی قانونی رائے (اوپینین) بھی جمع کرائیں۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی۔مشیر قانون نے متعلقہ حکام کو 400 دیوانی مقدمات کا آزادانہ آڈٹ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مشیرِ قانون نے ضلعی اٹارنیز کی مجرمانہ غفلت کی روک تھام کے لیے سیکرٹری محکمہ قانون کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شکایات سیل کے قیام کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ مزید برآں، ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بھی اسی نوعیت کا شکایات سیل قائم کرنے کی ہدایت کی۔عامر جاوید نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ڈسٹرکٹ اٹارنی ایبٹ آباد، دیر اپر اور بنوں کو بالترتیب 92، 91 اور 92 فیصد کامیابی کی شرح حاصل کرنے پر ستائشی نوٹ جاری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور انتظامی و قانونی خامیوں کا مؤثر ازالہ کیا جائے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کے روز پشاور میں 15 اکتوبر کو جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائ اینڈ ہیومن رائٹس نے صوبے کے 36 اضلاع میں سول مقدمات اور ضلعی اٹارنیز کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔رپورٹ کے مطابق، یکم ستمبر 2025ئ سے 30 ستمبر 2026ئ تک 3,296 سول مقدمات میں سے 2,511 مقدمات، یعنی تقریباً 76 فیصد، میں سرکاری اداروں کے حق میں فیصلے ہوئے، جبکہ 785 مقدمات میں فیصلے ان کے خلاف آئے۔ ان مقدمات سے متعلق مجموعی مالی ذمہ داری 4,327.96 ملین روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ 116 مقدمات میں مالی تخمینہ واضح نہیں تھا۔عامر جاوید نے بٹگرام، چارسدہ، مالاکنڈ، نوشہرہ، پشاور، سوات اور تورغر میں مقدمات کی کارکردگی کا خصوصی جائزہ لینے، لٹیگیشن پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ضلعی اٹارنیز کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے انتظامی محکموں میں لٹیگیشن سیلز کو فعال بنانے، ضروری قانونی ریکارڈ کی بروقت فراہمی، ضلعی اٹارنیز کی تربیت اور متعلقہ حکام کی جواب دہی یقینی بنانے پر بھی زور دیا.انہوں نے لٹیگیشن مینجمنٹ سسٹم اور ایس اے پی سسٹم کو فعال بنانے، خالی آسامیوں پر تقرریوں اور ایڈووکیٹ جنرل آفس و ڈائریکٹوریٹ جنرل لائ اینڈ ہیومن رائٹس کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی، تاکہ سرکاری مفادات کا تحفظ، قانونی امور میں شفافیت اور انتظامی کارکردگی میں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔ہر ڈسٹرکٹ اٹارنی کو ماہانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جمع کرنے اور غفلت کی صورت میں تادیبی کاروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کیے ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان اور سول اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، مولانا طیب قریشی

مشیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور اور کوآرڈینیٹر پیغام امن کمیٹی مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے تمام سکیورٹی و سول اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ سرزمین پاکستان پر افواج پاکستان کے خلاف جنگ کرنا حرام ہے، جبکہ ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف سرگرم عناصر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا وطن ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں، اس لیے قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیغام امن کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولانا نذیر حسین، مفتی عبید الرحمن سمیت کمیٹی کے اراکین موجود تھے۔مولانا طیب قریشی نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد قومی بیانیے ’’پیغام پاکستان‘‘ کو فروغ دینا، امن و استحکام کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا اور معاشرے میں مذہبی و سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ کمیٹی تمام مکاتب فکر اور طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے قومی اتحاد اور ریاست سے وابستگی کے جذبے کو مزید مستحکم کرے گی۔انہوں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس معاہدے کی حمایت کرتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ جو عناصر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں، ہم ان کے خلاف ہیں اور ریاست دشمن سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔
مولانا طیب قریشی نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے وطن عزیز کے قیام اور اس کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح> نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قرار دیا تھا، جہاں تمام شہریوں کو بلاامتیاز حقوق حاصل ہوں۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں پاکستان کو امن، رواداری، انصاف اور باہمی احترام کا گہوارہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی صوبے بھر میں امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس سلسلے میں ڈویژنل سطح پر تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں علمائ کرام، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شریک کیا جائے گا تاکہ قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔مشیر اوقاف نے بارہ اضلاع کے لیے مشاورتی کونسلوں کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ مشاورتی کونسلوں کے ذریعے عوامی مسائل کی نشاندہی، متعلقہ حلقوں سے مشاورت اور ان کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ ملے گا۔ عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے مشاورت اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔معدنیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طیب قریشی نے کہا کہ معدنی وسائل کے نام پر منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ معدنیات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور قومی وسائل ہیں۔ معدنی وسائل کو عوامی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے اور اس حوالے سے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔مذہبی و اقلیتی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کی جبری مذہبی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اقلیتوں کو آئین و قانون کے تحت مکمل حقوق کی فراہمی اور ان کی جان و مال، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ پیغام امن کمیٹی اقلیتی برادریوں کی خدمات اور ملکی ترقی کے لیے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ امن، برداشت اور باہمی احترام ہی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہیں۔مولانا طیب قریشی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیغام امن کمیٹی قومی اتحاد، مذہبی رواداری، ریاستی اداروں کے احترام اور قیام امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن و استحکام، بھائی چارے اور ترقی کی فضا کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

لاہوری گیٹ میں پبلک ڈے، ثمر ہارون بلور کی عوام سے ملاقات، شہری مسائل کے حل اور پشاور کے روایتی حسن کی بحالی پر زور

مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے لاہوری گیٹ میں منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر حلقے کے عوام سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور شہری شکایات کے ازالے سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ثمر ہارون بلور کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پھولوں کے گلدستے بھی پیش کیے۔ پبلک ڈے کا مقصد عوام کو اپنے مسائل براہِ راست پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا، ان کی شکایات سے آگاہی حاصل کرنا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر رابطے اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر پشاور میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے، نکاسی آب کے مؤثر انتظامات، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور شہر کے روایتی حسن کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پشاور، جو اپنی تاریخی و ثقافتی شناخت اور روایتی خوبصورتی کے باعث ’’شہرِ پھول‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، ایک منفرد تاریخی ورثے کا حامل ہے، جس کی شناخت کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کی مؤثر کاوشیں ناگزیر ہیں۔ شہر کو صاف ستھرا اور شہریوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے گلیوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات سے کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی، نالوں کی باقاعدہ صفائی، نکاسی آب کے نظام میں بہتری اور بارش کے پانی کی مؤثر نکاسی ضروری ہے۔ اسی طرح شجرکاری کو فروغ دینے، سرسبز مقامات کا تحفظ کرنے اور فضائی آلودگی میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا کی قیادت میں عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے شہری مسائل کے حل، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور پشاور کے روایتی حسن کی بحالی کے لیے ترجیحات کے تعین اور متعلقہ اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ شہری سہولیات میں پائیدار بہتری اور پشاور کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں اور عوام کے مابین تعاون ناگزیر ہے، تاکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے شہر کو صاف ستھرا، سرسبز اور صحت مند بنایا جا سکے اور اس کے روایتی حسن اور ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

Chief Secretary Chairs Review Meeting on Anti-Polio Measures

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Dr. Muhammad Fakhare Alam Irfan chaired a review meeting on polio eradication in the province. Secretary Health Mutiullah Khan, Emergency Operations Centre Coordinator Sara Rehman and other relevant officials attended.

The meeting was briefed that the target is to vaccinate 6.3 million children against polio in 37 districts of Khyber Pakhtunkhwa, with more than 32,000 teams deployed for the campaign.

The Chief Secretary directed that better access and high-quality campaigns be ensured to eradicate polio from the province, and that the set targets be achieved through a coordinated strategy.

The meeting was further informed that a polio booster dose campaign has been planned in Peshawar and Khyber at the end of October. Similarly, a national anti-polio campaign and a cervical cancer prevention campaign will also be conducted in November this year.

آر ٹی ایس کمیشن کا جامعات کی خدمات کو آر ٹی ایس قانون کے تحت لانے کے لیے وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، پشاور میں صوبے کی سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز اور نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد جامعات کی جانب سے فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کی نشاندہی، ان کی باقاعدہ نوٹیفکیشن اور مقررہ مدت میں فراہمی کے حوالے سے مشاورت کرنا تھا، تاکہ متعلقہ خدمات کو رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ 2014ئ کے دائرہ کار میں لانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔چیف کمشنر آر ٹی ایس، محمد علی شاہزادہ نے شرکائ کا خیرمقدم کیا اور انہیں آر ٹی ایس ایکٹ کے اہم نکات، کمیشن کے اغراض و مقاصد، اختیارات اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی خدمات کو آر ٹی ایس فریم ورک میں شامل کرنے سے طلبہ اور عام شہریوں کو سہولت فراہم کرنے، شفافیت و جوابدہی کو فروغ دینے اور خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کمیشن کے ان اقدام کو سراہتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کے لیے محکمہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔کمشنر آر ٹی ایس، شوکت علی یوسفزئی نے شرکائ کے سوالات اور تحفظات کے جوابات دیے اور جامعات کی خدمات کی نشاندہی، ان کی نوٹیفکیشن اور خدمات کی فراہمی کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ شرکائ نے اس اقدام کے مختلف پہلوؤں پر تبادل? خیال کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں۔یہ ورکشاپ خیبر پختونخوا میں آر ٹی ایس کمیشن اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان اقدام کا مقصد طلبہ اور شہریوں کو جامعات کی متعلقہ خدمات کے حصول میں سہولت فراہم کرنا اور قابلِ اطلاق قانونی تقاضوں کے مطابق خدمات کی شفاف اور بروقت فراہمی کو فروغ دینا ہے۔آر ٹی ایس کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں عوامی خدمات کی بہتری، ادارہ جاتی جوابدہی، شفافیت اور شہریوں میں آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے مواقع، چینی سرکاری کمپنی کے ساتھ اہم اجلاس کاانعقاد

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صنعت و حرفت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈاکٹر محمد ارشاد نے چینی سرکاری کمپنی کے وفد کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں صوبے کے مختلف شعبوں، بالخصوص معدنیات، رئیل سٹیٹ اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے دوران مشیر نے چینی وفد کا خیرمقدم کیا اور سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت چینی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی کاروباری شراکت داریوں کے قیام میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔اجلاس میں ایچ میک گروپ کے چیئرمین اور خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (کے پی بوئٹ) کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ملاقات کا مقصد صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کا جائزہ لینا، مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنا اور پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔

محکمہ اوقاف کی وقف املاک پر غیر قانونی قبضے پر تشویش، واگزاری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، مولانا طیب قریشی

مشیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی نے محکمہ اوقاف کی وقف اراضی پر غیر قانونی قبضے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مختلف محکموں کے ساتھ مل کر مذکورہ اراضی واگزار کرانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے وقف اراضی کے تحفظ اور غیر قانونی قبضوں کے خاتمے کے لیے اب تک مناسب اقدامات نہ اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قابضین سے ریکوری کی جائے اور انکے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی، وقف املاک اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر اوقاف گل نواز خان سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر اوقاف کو محکمے کی وقف املاک، متعلقہ قوانین، جاری سرگرمیوں، عدالتی مقدمات، درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر اوقاف مولانا طیب قریشی نے مختلف سرکاری محکموں سے واجبات کی ریکوری کےلئے اقدامات کی ہدایت بھی دی۔ اس موقع پر محکمے کی افرادی قوت، انتظامی ڈھانچے اور وقف املاک سے متعلق قوانین و ضوابط کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ وقف املاک کے تحفظ، غیر قانونی قبضوں کے خاتمے اور اراضی کی واگزاری کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وقف املاک ایک اہم قومی و دینی امانت ہیں، جن کا تحفظ اور درست استعمال یقینی بنانا محکمہ اوقاف کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی صوابی، بنوں اور ملاکنڈ میں بڑی کارروائیاں، سینکڑوں کلو مضر صحت خوراک ضبط

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کی تیاری، ترسیل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی کی خصوصی ہدایات پر صوابی، بنوں اور ملاکنڈ میں کی گئی کارروائیوں کے دوران سینکڑوں کلوگرام باسی مچھلی، مضر صحت گوشت اور غیر معیاری چپس برآمد کرکے ضبط اور تلف کر دی گئیں، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صوابی فوڈ سیفٹی ٹیم نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے سکھر سے مسافر بس کے ذریعے لائی جانے والی تقریباً 200 کلوگرام باسی مچھلی برآمد کی۔ مذکورہ مچھلی رکشوں کے ذریعے مختلف فش پوائنٹس کو فراہم کی جانی تھی، تاہم فوڈ سیفٹی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مچھلی کو موقع پر تلف کر دیا اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان کے مطابق ضلع بنوں میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے محکمہ لائیوسٹاک کے اہلکاروں کے ہمراہ ڈی آئی خان روڈ پر واقع قصائی کی دکان پر کارروائی کی، جہاں سے 100 کلوگرام سے زائد مضر صحت گوشت برآمد ہوا۔ ٹیم نے برآمد شدہ گوشت موقع پر تلف کر دیا، جبکہ فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔اسی طرح ملاکنڈ فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر بٹ خیلہ بازار میں ایک یونٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 800 کلوگرام غیر معیاری برانڈڈ چپس برآمد کرکے ضبط کر لیں۔ تفصیلات میں بتایا گیا کہ خلاف ورزی پر متعلقہ مالکان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائیوں پر متعلقہ فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں خوراک کے کاروبار کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے اور مضر صحت اشیائے خورونوش کی تیاری، ترسیل اور فروخت کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔