حکومت پاکستان، کابینہ سیکرٹریٹ، کابینہ ڈویژن، اسلام آباد کی پریس ریلیز نمبر 10-01/2026/Min-II، مورخہ 02-02-2026 کے مطابق، 5 فروری 2026 (جمعرات) کو پورے صوبے میں “یوم یکجہتی کشمیر” کے موقع پر عام تعطیل ہوگی۔اس موقع پر کشمیر کے شہداء کی یاد میں صبح 10.00بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور پارٹی منشور کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور پارٹی منشور کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف واحد جماعت ہے جس نے نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ینگ لیڈرز پارلیمنٹ تنظیم کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔مشیر کھیل نے مزید کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ بدقسمتی سے فارم 47 کے بعد ملک کو شدید معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس مرکز میں عمران خان کی قیادت میں معیشت ترقی کی راہ پر گامزن تھی، جہاں جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تک پہنچ گئی اور ریکارڈ ترقی ہوئی۔تاج محمد خان نے کہا ہے کہ کورونا جیسے عالمی بحران کے دوران بھی عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف معیشت کو سنبھالا بلکہ ترقی کا سفر جاری رکھا، جبکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس بحران سے نہ نکل سکے۔ بعد ازاں پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ملک ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیاتھا۔انکا مزید کہنا تھا آج بے روزگاری کے باعث نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس کا ادراک کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مختلف مواقع پیدا کر رہی ہے۔ حکومت نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے فراہم کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے قرضہ اسکیم کی رقم تین ارب روپے سے بڑھا کر پانچ ارب روپے کی جائے۔تاج محمد خان ترند کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جلد ایک نئی یوتھ پالیسی متعارف کروا رہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس پالیسی کی تیاری میں نوجوانوں کی آراء کو شامل کیا جائے گا تاکہ فیصلے زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔مشیر کھیل نے کہا ہے خیبرپختونخوا حکومت حقیقی معنوں میں نوجوانوں کی حکومت ہے، اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے زیراہتمام انڈر21 گیمز کا میلہ کل پشاور میں سجے گا گیمز میں 7 ریجن اور36 ڈسٹرکٹس سے 5ہزارسے زائدمردو خواتین کھلاڑی ایکشن میں نظر آئینگے، جس میں مردوں کی 38 اور خواتین کی 18 مختلف گیمز شامل ہیں۔
محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے زیراہتمام انڈر21 گیمز کا میلہ کل بروز بدھ 4 فروری سے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں سجے گا۔ جس میں صوبہ کے 7 ریجن اور36 ڈسٹرکٹس سے 5ہزارسے زائد کھلاڑی ایکشن میں نظر آئینگے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر نے گیمز کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس شاہ فیصل اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انڈر21 گیمز میں مردوں کی 38 جبکہ خواتین کی 18 مختلف گیمز ہیں جس میں وہ مدمقابل ہونگے۔ مردوں کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس، حیات آبادسپورٹس کمپلیکس، کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس، مردان سپورٹس کمپلیکس جبکہ خواتین کھلاڑیوں کے مقابلے عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور،پشاور بورڈ گراؤنڈ اور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہونگے۔ مردوں کیلئے منعقدہ گیمز میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، اتھلیٹکس، والی بال، کراٹے، فٹبال، جمناسٹک، تھرو بال، باسکٹ بال، باکسنگ، تائیکوانڈو، ہاکی، جوڈو، ہینڈ بال، ووشو، آرچری، جوجٹسو، ٹینس، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، سنوکر، لیکروس، ٹیک بال، ماس ریسلنگ، فٹسال، کک باکسنگ، باڈی بلڈنگ، فل کنٹیکٹ کراٹے، کبڈی، میوتھائی،بیس بال، رسہ کشی، رگبی اور زورخانہ شامل ہے۔ خواتین کیلئے منعقدہ گیمز میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، اتھلیٹکس، والی بال، کراٹے، باسکٹ بال، تائیکوانڈو، جوڈو، ہاکی، نیٹ بال، کرکٹ، آرچری، ہینڈ بال، جو وجٹسو، تھروبال، فٹسال اور سافٹ بال شامل ہیں۔ ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ کھلاڑیوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور تمام گیمز کی بہترین طریقے سے نگرانی کی جائے۔انڈر21 گیمز کی اختتامی تقریب 7 فروری کو پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوگی۔ ان گیمز میں خصوصی افراد، پستہ قامت اور سٹینڈنگ کرکٹ کیلئے گیمز کا انعقاد کیا جائے گا۔
صوبے کے تمام بورڈز کو آن سکرین مارکنگ سافٹ وئیر کی حوالگی
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں آج ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے نمائندوں کو آن سکرین مارکنگ (On-Screen Marking) سافٹ وئیر باضابطہ طور پر حوالہ کیا گیا۔حکومتِ خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری کی واضح ہدایات کی روشنی میں، مینوئل مارکنگ کے بتدریج خاتمے، پرچہ جات کی حفاظت، ڈیجیٹل ایویلیوایشن میں شفافیت اور انسانی غلطیوں کے مکمل خاتمے کے لیے یہ سافٹ وئیر تیار کیا گیا۔ اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے پشاور بورڈ کی ماہر آئی ٹی ٹیم نے صرف 60 دنوں میں ایک جدید، محفوظ اور جامع آن اسکرین مارکنگ سافٹ وئیر کامیابی کے ساتھ تیار کیا۔تقریب میں بتایا گیا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے E-Answer Sheet (شیٹ۔ ای۔ آنسر)کی تیاری کا ٹاسک بھی پشاور بورڈ کو دیا گیا تھا، جسے کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ صوبے کے تمام بورڈز کو نہ صرف ای-شیٹ اور آن سکرین مارکنگ کی تربیت دی گئی بلکہ لائیو ٹیسٹنگ سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام بورڈز کے Server Configuration کا عمل بھی مکمل کیا گیا تاکہ پورے صوبے میں ایک یکساں، شفاف اور محفوظ ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم نافذ کیا جا سکے۔پشاور بورڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ اقدام تعلیمی تاریخ میں ایک یادگار اور انقلابی سنگ میل ہے اور مقصد امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے شفاف، قابلِ اعتماد اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ بورڈ نے یقین دلایا کہ وہ تمام تعلیمی بورڈز اور اداروں کو Technical Support فراہم کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے تاکہ طلباء کے مستقبل کو تابناک اور روشن بنایا جا سکے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس آف آرٹ اینڈ کلچر کے قیام اور افتتاح سے متعلق اجلاس کا انعقاد
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت منگل کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا کی ثقافت کے فروغ، لیجنڈ فنکاروں کے کردار، اور قدیم محافِظ خانہ کو باقاعدہ “خیبرپختونخوا ہاؤس آف آرٹ اینڈ کلچر” کے طور پر فعال بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور نے کہا کہ ثقافت ہماری شناخت، تاریخ اور اقدار کی عکاس ہے، جس کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیجنڈ فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی شخصیات نے مقامی ثقافت کو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا، اور نئی نسل کو ان شخصیات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کمشنر پشاور نے کہا کہ پشاور کے محافِظ خانہ بلڈنگ کو اس کے تاریخی رنگ میں بحال کیا گیا ہے جسے ایک متحرک ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں آرٹ نمائشوں، موسیقی، شاعری، تھیٹر، ادبی نشستوں اور دیگر ثقافتی تقریبات کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے گا۔ اس مرکز کو نوجوان فنکاروں کے لئے پلیٹ فارم اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا تاکہ صوبائی ثقافت کی اصل روح کو اجاگر کیا جا سکے۔اجلاس میں شعبہ ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ادب و ثقافت کے شعبے میں کام کرنے والے تنظیموں اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ شریک شرکاء نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس تاریخی عمارت کو پشاور کی ثقافتی شناخت کی علامت بنایا جائے گا۔ کمشنر پشاور نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی اشتراک سے عملی اقدامات کا آغاز کریں تاکہ محافِظ خانہ بلڈنگ کو جلد از جلد آرٹ اینڈ کلچر ہاؤس کے طور پر عوام کے لیے کھولا جا سکے۔
چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کا مون سون کے لیے جامع فلڈ ریسپانس پلان کا جائزہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کو منگل کے روز ایک اجلاس کے دوران آنے والے مون سون سیزن کے لئے ایک جامع فلڈ ریسپانس پلان پیش کیا گیا، جس کا مقصد مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی اداروں کی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔یہ پلان گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد قدرتی آفات کی صورت میں فوری اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری ریلیف، سیکرٹری منصوبہ بندی، ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، ڈی جی ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک جامع اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت صوبے کے حساس اضلاع میں نشاندہی کیے گئے 60 واٹر ریسکیو پوائنٹس پر پری فیبریکیٹڈ اور پورٹیبل اسٹرکچرز قائم کیے جائیں گے۔ ان اسٹرکچرز کے قیام کے لیے ٹائم لائنز بھی مرتب کر لی گئی ہیں جبکہ خصوصی ریسکیو آلات کی خریداری کا عمل جاری ہے۔خریدے جانے والے آلات میں واٹر ریسکیو گیئر، انفلیٹیبل کشتیاں، رَسی پھینکنے والی گنز، نگرانی اور سرچ اینڈ ریکوری کے لیے ڈرونز شامل ہیں۔ دور دراز اور مشکل علاقوں تک رسائی، بروقت رابطے اور بہتر ہم آہنگی کے لیے میڈیکل موٹر بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ریسکیو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیونیکیشن سسٹمز اور سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔منصوبے میں ارلی وارننگ اور کمیونٹی موبلائزیشن سسٹم کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت آگاہ اور تیار رکھا جا سکے۔ مزید برآں، تکنیکی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جو سیلاب سے نمٹنے کے لیے نئی تجاویز اور حکمتِ عملیاں تیار کریں گے۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پلان پر کام کو تیز کیا جائے اور چیف سیکرٹری آفس اس پر پیش رفت اور عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے پیشگی پلان مقصد صوبے کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا اور عوام کی جان و مال کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔
محکمہ ثقافت و سیاحت کے ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس، تین منصوبوں کی منظوری
محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ اور میوزیم کے سیکریٹری سعادت حسن کی صدارت میں محکمانہ ترقیاتی ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) کا پانچواں اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آثارِ قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد، چیف پلاننگ آفیسر سید شعیب، سینئر پلاننگ آفیسر فرقان شفیع سمیت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، فنانس، سی اینڈ ڈبلیو، جنگلات اور کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 35 کروڑ روپے لاگت کے تین ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبے ضم اضلاع سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں آثارِ قدیمہ سے متعلق سرگرمیوں پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد تاریخی مقامات کی نشاندہی، تحفظ اور بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان مقامات کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن اور چیف سیکرٹری کے احکامات کی روشنی میں محکمہ ثقافت و سیاحت کی جانب سے ٹورزم مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔یہ نظام سیاحتی خدمات کو ڈیجیٹل کرنے، دستیاب سہولیات کی نگرانی، مصروف سیاحتی موسموں میں آمدورفت اور سہولیات کی دستیابی پر نظر رکھنے اور بڑے سیاحتی مقامات پر تحفظ، سیکیورٹی اور رش کے دوران بہتر انتظام میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے اکبر پورہ نوشہرہ کا دورہ کیا اور بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے اکبر پورہ نوشہرہ کا دورہ کیا اور بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر رکنِ قومی اسمبلی ذوالفقار خان، رکنِ صوبائی اسمبلی اشفاق خان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ اکرام بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ یہ یونٹ حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔آر ایچ سی اکبر پورہ میں نئے بلاک کی توسیع اور تعمیر کا منصوبہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ خیبر پختونخوا کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔توسیعی منصوبے اور نئی عمارت کی تعمیر سے نئے بلاکس اور یونٹس کے لیے اضافی جگہ میسر آئے گی جس سے صحت کی سہولیات میں نمایاں توسیع اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت کو منصوبے کے دائرہ کار اور علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق اس کے متوقع اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے لیبارٹری، ایکس رے روم اور مائنر آپریشن تھیٹر کا دورہ کیا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے صحت مراکز میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔خلیق الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ نئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام بنیادی سطح کے صحت مراکز میں مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں ضروری طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت بنیادی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری اور بڑے اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اصلاحات سے اضلاع کی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات مضبوط ہوں گی، غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور ثانوی و ثالثی سطح کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ضرورت کے مطابق نئے بڑے ہسپتال قائم کرنے کے عمل میں بھی مصروف ہیں تاکہ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور رش کو کم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والی ہیلتھ پالیسی سے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری آئے گی اور صوبے کے عوام جلد مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔پہلے اجلاس میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 کی مختلف شقوں، اغراض و مقاصد اور قانونی و آئینی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور، محکمہ قانون کے حکام سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ متعلقہ حکام نے بل کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی اور اپنی آراء پیش کیں۔دوسرے اجلاس میں خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ قانون کے مؤثر نفاذ، خواتین کو وراثتی و جائیداد کے حقوق کی بروقت فراہمی اور درپیش عملی و قانونی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مجوزہ ترامیم کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے قانون کے ڈیفینیشن کلاز میں ضروری تبدیلیوں سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ سیکشن 4 کے تحت خواتین اور غیر سرکاری تنظیموں کی باہمی تحریری رضامندی سے صوبائی محتسب کے روبرو شکایت دائر کی جا سکتی ہے، جبکہ سیکشن 4 اور سیکشن 7 کے مابین قانونی تضاد کے باعث سیکشن 7 کو حذف کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مزید برآں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں سیکشن 9 میں ایک نئی ذیلی شق شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ اجلاس میں عدالتی فیصلوں کے تحقیقی مطالعے اور قانون کے اغراض و مقاصد کے بہتر تعین پر بھی زور دیا گیا۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے دونوں اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد معاشرے میں ہم آہنگی، مشاورت اور ادارہ جاتی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت خواتین کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے قوانین کو مزید مضبوط، قابلِ عمل اور مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ ترامیم کو عوامی مفاد اور زمینی حقائق کے مطابق حتمی شکل دی جائے۔اجلاسوں کے دوران متعدد اہم سفارشات مرتب کی گئیں جبکہ بعض نکات پر مزید مشاورت کے لیے آئندہ اجلاس میں دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محمد انور خان نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی عبدالمنیم خان، افتخار علی مشوانی، حامد الرحمن اور محترمہ ریحانہ اسماعیل نے شرکت کی، جبکہ سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن،بمع متعلقہ عملہ،محکمہ قانون محکمہ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے افسران شریک تھے -اجلاس میں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 میں مجوزہ ترمیمی بل پر غور کیا گیا، جو کابینہ سے منظوری کے بعد 25 جنوری 2026 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور مزید غور و خوض کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اس کے قانونی اور تعلیمی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ترمیمی بل کی ایک اہم شق کے تحت یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز، سوات کے نام میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی، جس کے مطابق یونیورسٹی کا نیا نام“یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سوات”رکھنے کی سفارش کی گئی۔ قائمہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ مجوزہ نیا نام یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے نصاب اور تعلیمی شعبہ جات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس کے پیش نظر ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے مزید ضروری کارروائی کے لیے ایوان کو ریفر کر دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد انور خان نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی کا عمل شفاف، بامقصد اور صوبے کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، تاکہ خیبر پختونخوا کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آ سکیں اور وہ اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر سکیں
