پشاور میں منعقد ہو جس میں اراکین کمیٹی اکرام غازی، ریحانہ اسماعیل سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے گندھارا تہذیبوں کے نوادرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسے تمام امور صوبائی حکومت کے اختیار میں آچکے ہیں، لہٰذا وفاق کو اس معاملے میں بلاجواز مداخلت اور تجاوزسے گریز کرنا چاہیے۔اجلاس میں پیڈو ڈیپارٹمنٹ کے دس جاری ہائیڈرل پراجیکٹس پر بھی غور کیا گیا جو تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان سے مجموعی طور پر 250 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جو نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ چیئرمین احمد کنڈی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ہر ہائیڈرل پراجیکٹ کی علیحدہ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ان کی افادیت اور اثرات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جاسکے۔مزید برآں، اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شفافیت کے فروغ کے لیے سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ غیر شفاف تقسیم سے گریز کرتے ہوئے فنڈز حقیقی مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منتقل کیے جائیں، تاکہ عوامی فلاح کے اس اہم پروگرام کی شفافیت اور اعتماد کو بحال رکھا جا سکے-
