وزارت ہیومن رائٹس, محکمہ قانون و انسانی حقوق خیبرپختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ (FAID) کے باہمی اشتراک سے پشاور میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے حوالے سے دو روزہ صوبائی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

وزارت ہیومن رائٹس, محکمہ قانون و انسانی حقوق خیبرپختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ (FAID) کے باہمی اشتراک سے پشاور میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے حوالے سے دو روزہ صوبائی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کا مقصد بزرگ شہریوں کے حقوق، ضروریات اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں قومی پالیسی کو صوبائی حالات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جامع مشاورت کا انعقاد تھا۔ورکشاپ کے دوران مس رخسانہ عمر، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیومن رائٹس، انٹرنیشنل کوآپریشن ونگ اسلام آباد مس تنزیلہ، ایف۔ اے۔ آئی۔ ڈی کے غلام علی، ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس، اور عبدالجلیل خان ایف۔ اے۔ آئی۔ ڈی نے موضوع پر اظہارِ خیال کیا اور شرکاء کو تربیتی و پالیسی نکات سے آگاہ کیا۔تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز عمر رسیدگی کے عالمی و قومی تناظر، پاکستان میں آبادیاتی تبدیلیوں، میڈرڈ انٹرنیشنل پلان آف ایکشن آن ایجنگ اور اس حوالے سے پاکستان کے عزم و ذمہ داریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بزرگ شہریوں کی ترجیحات پر کھلے مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری محکموں کے افسران اور ماہرین نے اپنی آراء پیش کیں۔ورکشاپ میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے مسودے کا جائزہ لیا گیا، پالیسی کے مختلف ابواب پر گروپ اور اوپن ڈسکشن منعقد کی گئی، جبکہ صوبائی تناظر میں پالیسی کو ہم آہنگ کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی گئیں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا۔ورکشاپ میں خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بزرگ شہری معاشرے کا اہم اور تجربہ کار طبقہ ہیں، جن کے لیے سماجی تحفظ، صحت، قانونی معاونت اور باوقار زندگی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس نوعیت کی صوبائی مشاورت قومی سطح پر پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط بنانے اور بزرگ شہریوں کے حقوق کے مؤثر تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں