مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ممبران قومی اسمبلی کے ہمراہ پریس بریفینگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سانحات کا ملک بنتا جا رہا ہے ہر روز کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم سانحے کے عادی ہو گئے ہیں پہلے جب ملک میں کوئی سانحہ ہوتا تھا تو غور و فکر کیا جاتا ہے لیکن اب حکمران ٹھس سے مس نہیں ہو رہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا ھاؤس اسلام آباد میں پریس بریفینگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبران قومی اسمبلی عارف جٹ اور اسامہ میلہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں برفباری ہو رہی ہے اور خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ میں آپریشن کیا جا رہا ہے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو تیراہ کے عوام کے ساتھ یک جہتی کرنی چاہیے تھی لیکن ایسی کوئی صورتحال دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سانحات اور حادثات کا ملک بننے جا رہا ہے لیکن حکمران حادثات کو کنٹرول کرنے اور حادثات میں فوری ریلیف دینے میں ناکام ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے حال ہی میں دو انشورنس کمپنیاں بنائی ہیں اور آگے ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ فنڈ قائم کرے گی اور اس میں حادثات کیلئے الگ سے فنڈز رکھے گے تاکہ ڈیزاسٹرز کے وقت عوام کو فوری طور پر ریلیف پہنچایا جاسکے۔ دنیا میں حادثات کے مواقع پر حکمرانوں سے پہلے انشورنس کمپنیاں فوری طور پر فنڈز فراہم کرتی ہے لیکن پاکستان میں بڑے بڑے انشورنس کمپنیاں ہو کر بھی ایسا کچھ نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان کی معیشت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے عوام وزیراعظم اور حکومتوں کو ڈھونڈتے تھے آج کل ونڈر بوائے کو ڈھونڈا جا رھا ہے پتا نہیں کب ونڈر بوائے ملے گا اور ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اطلاعات ہے کہ ونڈر بوائے کیلئے ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کی جارہی ہے پھر تو الیکشن لڑنے کی اہلیت کیلئے عمر 40 سے 50 سال رکھی جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی تو 36 سال کے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف تو نوجوانوں کی پارٹی ہے تو آپ نوجوانوں سے ووٹ کا حق بھی چھین رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے دنوں ملک کی ابتر معاشی صورتحال پر بزنس کمیونٹی نے حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کی جس پر جواب دینے کے بجائے وزیر اطلاعات عطاء طارڈ نے اسکو انکو پیڈ پریس کانفرنس کا الزام لگا دیا جو بھی حکومت کے خلاف بات کرتا ہے وہ غدار ڈیکلیئر ہو جاتا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری منفی 20 فیصد ہوگئی ہے یہ پچھلے ماہ دسمبر کے نمبر ہے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی صورتحال بلکل بھی بہتر دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 10 اپریل کو موجودہ حکومت کے چار سال پورے ہو جائیں اور معاشی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے وزیراعظم صاحب کہہ رہیہیں کہ اب ہماری توجہ غربت اور ترقی کی طرف ہے تو چار سال سے آپکی توجہ کس طرف تھی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت بجلی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے 36 ارب ڈالر کی قرضہ لینے جا رہی ہے اسلئے کہہ رہیہیں معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب عوام کو ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے پوچھیں گے اور خود کیلئے بغیر آئی ایم ایف مشاورت کے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کردی کہ ایک سال کیلئے پارلیمنٹرین اثاثے خفیہ رکھ سکیں گے۔ مزمل اسلم نے مزید کہا کہ ملک میں غربت اور فوڈ اِن سیکیورٹی بڑھ چکی ہے۔ گندم کا ریٹ 5 ہزار روپے من ہو گیا ہے مگر کسان سے گندم صرف 22 سو روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی ہے۔ دسمبر میں ایکسپورٹ نیچے آئی ہے اور ورلڈ بینک نے پاکستان کی معیشت کو قابلِ رحم قرار دیا ہے۔ یو اے ای نے قرض پر ساڑھے 6 فیصد شرح سود مانگی ہے جبکہ سعودی عرب بھی اپنا قرض واپس لینے پر غور کر رہا ہے۔پریس کانفرنس میں مبین عارف جٹ نے کہا کہ چھ ماہ میں امپورٹ 32 ارب ڈالر جبکہ ایکسپورٹ صرف ساڑھے 15 ارب ڈالر رہی ہے۔ فارن اور پرائیویٹ سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے، لوگ کاروبار بند کر کے بیرون ملک جا رہے ہیں اور حکومت نے سیلز ٹیکس ریفنڈ روک رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ملیں بند پڑی ہیں اور سردیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریڈ ڈیفیسٹ بہت زیادہ ہے، سروس سیکٹر میں بھی خسارہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ ایف بی آر نے بڑے ایکسپورٹرز کے بے جا آڈٹ کیے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں۔اسامہ میلہ نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سے ہم ونڈر بوائے کی تلاش میں ہیں جبکہ ہماری ریڑھ کی ہڈی زراعت اور کسان ہے۔ انہوں نے یوکرینی گندم کی امپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسان کے ساتھ جرائم کیے۔ کسان نے 2100 روپے میں گندم بیچی، فلور ملز نے سٹاک کی اور آج وہی گندم 4500 سے 5000 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ آخر میں گندم مہنگی ہو گئی اور کسان کو فائدہ بھی نہ ملا۔مزمل اسلم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے 25 پروگرام ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر موجودہ حکمرانوں نے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سے جانے والے گندم کے ٹرکوں پر تین تین لاکھ روپے رشوت لی جا رہی ہے۔
