انصاف، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں ان کے کردار میں انڈونیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لئے اعلیٰ سطح قومی وفد کا جکارتہ کا دورہ

چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خواتین، امن اور سلامتی (ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی) کے موضوع پر پاکستان–انڈونیشیا ایکسپوژر اینڈ لرننگ وزٹ میں شرکت کے لئے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 19 سے 24 جنوری 2026 تک منعقد ہوا جس کا اہتمام یو این ویمن کے تعاون سے کیا گیا۔اس بین الاقوامی فورم میں چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس حکومتِ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کا حصہ تھیں۔ وفد میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق پاکستان خالد صدیق، چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن امے لائلہ، چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کرن بلوچ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل تھے۔دورے کے دوران پاکستانی وفد نے انڈونیشیا کے سرکاری اداروں، پولیس حکام، قومی خواتین و انسانی حقوق کمیشنز اور سول سوسائٹی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انصاف کے مربوط نظام، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے انڈونیشیا کے ”پیس ولیج ماڈل“، کمیونٹی پولیسنگ، ابتدائی انتباہی نظام اور خواتین کی قیادت میں جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد تنازعات کی روک تھام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ پولیس تربیتی اداروں اور نگران اداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں صنفی حساس پولیسنگ اور عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر مختلف سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن کے پی سی ایس ڈبلیو نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج ان پر مؤثر عملدرآمد ہے، خاص طور پر خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں۔چیئرپرسن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا ویمن کمانڈونیشیا کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صوبائی اداروں کو مضبوط بنائے گا، امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی شمولیت بڑھائے گا اور خیبرپختونخوا میں ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد کو فروغ دے گا۔دورے کے اختتام پر یو این ویمن پاکستان اور یو این ویمن انڈونیشیا کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے ممالک کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو ممکن بنایا جس سے ان ممالک میں خواتین کو بااختیار بنانے، امن اور انصاف کے لئے پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں