خیبرپختونخوامیں توانائی کے10منصوبوں سے224میگاواٹ سستی بجلی کی پیدا وارجاری

خیبرپختونخواحکومت اپنے وسائل سے توانائی کے جاری منصوبوں پرتیزی سے کام کررہی ہے۔اس وقت 224میگاواٹ کے 10توانائی منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں جن سے صوبے کوسالانہ 5ارب روپے کی آمدن ہورہی ہے جبکہ آئندہ پانچ سالوں میں توانائی کے جاری مزید 7منصوبوں کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھ کر1000میگاواٹ ہوجائے گی جس سے صوبے کوسالانہ تقریباً 55ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ ضلع سوات میں توانائی کے 3فلیگ شپ منصوبوں پربھی کام تیزی سے جاری ہے جن سے 387میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ2سالوں میں شروع ہوجائے گی۔سوات کوریڈورپر40کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پربھی کام تیز کردیا گیا ہے جورواں سال مکمل کرلیا جائے گاجن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے پن بجلی کے جاری7 اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری توانائی انورخان شیرانی،چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق، سینئرچیف پلاننگ آفیسرسیدظاہرشاہ اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ سال 63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور10.2میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرلئے گئے ہیں جن کی تکمیل کے بعد پیڈوکی سستی بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھ کر224میگاواٹ ہوچکی ہے۔اسی طرح 7منصوبوں جن میں 300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،215میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،13.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم 6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمشن لائن منصوبے کوآنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے کو رواں سال ٹائم فریم میں ہرصورت مکمل کرنے پر زوردیا اور صوبے کے سب سے بڑے منصوبے 300میگاواٹ بالاکوٹ پر بھی متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کوکام مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔سیکرٹری توانائی نے پیڈوحکام کوہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ جاری توانائی منصوبے مکمل ہونے کے بعد نیشنل گرڈ میں شامل کئے جائیں اگرنیشنل گرڈ میں شامل نہ کئے جائیں توصنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی کی فروخت کے لئے ڈائریکٹ سپلائی ماڈل کے تحت ڈسٹری بیوشن لائسنس فوری حاصل کئے جائیں۔انہوں نے پراجیکٹ ڈائریکٹرزکوسختی سے خبردارکرتے ہوئے کہاکہ وہ منصوبوں کا اینالائسز گیپ کاجائزہ لے کرآپریشنل گیپ،ٹی اوآرز،ٹائم باؤنڈنگ سمیت تمام رکاوٹوں کودورکرکے مقررہ ٹائم لائن کے اندرمنصوبے مکمل کریں بصورت دیگرکسی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔

مزید پڑھیں