خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں توانائی، جنگلات کے تحفظ اور سول ڈیفنس کے انتظامی و تنظیمی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، مشیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ توانائی و بجلی نثار احمد، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، سول ڈیفنس، ریلیف، محکمہ جنگلات، پیڈو، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ سول ڈیفنس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق امور زیر غور آئے۔ کمیٹی کو سول ڈیفنس کے نئے تنظیمی ڈھانچے پر بریفنگ دی گئی، جس کے تحت محکمہ کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے ماتحت مزید مؤثر انداز میں فعال بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں سول ڈیفنس کی ری الائنمنٹ اور ری سٹرکچرنگ پر بھی غور کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ جنگ ہویا امن، ہر صورتحال میں یہ محکمہ مکمل طور پر فعال ہو اور اس کی کارکردگی واضح طور پر نظر آئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چونکہ ریسکیو 1122 پہلے ہی محکمہ ریلیف کے تحت کام کر رہا ہے، اس لیے سول ڈیفنس کو محکمہ ریلیف کی بجائے محکمہ داخلہ کے ماتحت رکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔ سول ڈیفنس حکام نے محکمہ کی 418 منظور شدہ اسامیوں اور سالانہ سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔اجلاس میں ضلع چترال کے علاقے ارندو گول کے جنگلات سے لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور ترسیل سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2004 تا 2010 کے دوران لاء اینڈ آرڈر کی کمزور صورتحال کے باعث مذکورہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی عمل میں آئی۔ مزید بتایا گیا کہ دیر کوہستان اور شیرینگل کے علاقوں میں سالانہ تقریباً دس لاکھ مکعب فٹ لکڑی جلائی جاتی ہے جو ماحولیاتی نظام اور قیمتی قومی وسائل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ضلع چترال میں 7343 گرے ہوئے درخت، 13891 لاگز اور 68551 سکنٹس کی صورت میں لکڑی موجود ہے۔اجلاس میں لکڑی کی معاشی قدر کے تعین، غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام اور جلائی جانے والی لکڑی کے متبادل ذرائع متعارف کرانے سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ آئل اینڈ گیس رائلٹی کے طرز پر ارندو گول میں موجود 1.70ملین کیوبک فٹ لکڑی سے حاصل ہونے والی آمدن کو متعلقہ علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے، جس کے لیے مقامی آبادی کی رضامندی حاصل کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ بروقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں قیمتی لکڑی کے ضائع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس ضمن میں ایک مرتبہ ایمنسٹی دینے کی صورت میں 70 فیصد رقم سرکار اور 30 فیصد مقامی سٹیک ہولڈرز کو دینے جبکہ ایمنسٹی نہ دینے کی صورت میں آمدن بحق سرکار آنے سے قبل گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں گبرال–کالام 88 میگاواٹ اور مدین 215 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ سیکرٹری محکمہ توانائی و بجلی نے منصوبوں کے مالیاتی تخمینوں پر بریفنگ دی جن میں سرمائے کی اوسط لاگت، متوقع منافع کی شرح، خالص موجودہ مالی قدر، قرضہ جات کی ادائیگی کی صلاحیت، سرمایہ واپسی کی مدت اور دیگر مالی و تکنیکی پہلو شامل تھے۔ محکمہ توانائی، پیڈو اور متعلقہ اداروں نے منصوبوں کی تازہ ترین پیش رفت، فنانشل اور تکنیکی صورتحال سے آگاہ کیا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور و قابل تجدید توانائی ترقیاتی پروگرام کے تحت ان منصوبوں کے لیے اضافی مالی وسائل کی فراہمی، منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی باضابطہ توثیق سے متعلق امور زیر غور آئے۔ شرکاء نے کہا کہ یہ منصوبے صوبے میں صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ہائیڈرو پاور، سیاحت، تیل و گیس اور معدنی وسائل خیبر پختونخوا کے وہ قدرتی اثاثے ہیں جو صوبے کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت ان وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سول ڈیفنس کے نئے ڈھانچے، جنگلاتی وسائل کے تحفظ اور توانائی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے جامع اور مربوط طریقہ کار مرتب کیا جائے تاکہ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی حکومت عوامی تحفظ، قدرتی وسائل کے تحفظ اور توانائی کے شعبے کی ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کو ایک مستحکم اور خود کفیل صوبہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیں