چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری مختلف اقدامات کا جائزہ ایک اجلاسمیں لیا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم میں جاری اہم اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں کمزور ترین کارکردگی والے کالجوں کو آؤٹ سورس کرنا، خدمات کو ڈیجیٹل بنانا، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور طلبہ کو روزگار کے قابل بنانے کے اقدامات شامل تھے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم طلبہ سے متعلق بنیادی خدمات کو ڈیجیٹل بنا رہا ہے۔ مرکزی آن لائن داخلہ نظام پہلے ہی فعال ہے جبکہ شفافیت اور سہولت سہل کرنے کے لیے کیش لیس ادائیگی کے نظام کو بھی جلد مکمل فعال کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اسٹیم سرٹیفکیشن پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت اس وقت 100 اساتذہ کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ سائنسی اور تکنیکی تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ فارغ التحصیل طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں کیریئر رہنمائی اور پلیسمنٹ پروگرامز متعارف کرائے جارہے ہیں، جن کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تین کالجوں کو کالجز آف اپلائیڈ سائنسز میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، جن میں سے کم از کم ایک کالج کو جون تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
