عمران خان کی صحت سے متعلق اہم معلومات دانستہ طور پر چھپائی جا رہی ہیں، شفیع جان

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو بغیر کسی باضابطہ اطلاع کے ہسپتال منتقل کرنا، اور اس حوالے سے نہ اہلِ خانہ، نہ قانونی ٹیم اور نہ ہی پارٹی قیادت کو آگاہ کرنا، نہایت تشویشناک امر ہے جو وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے رویے اور طرزِ حکمرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ذاتی طور پر اڈیالہ جیل کا دورہ عمران خان کی صحت اور خیریت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے لیے کیا، تاہم اس ملاقات سے روکنا وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے آئینی تقاضوں اور مسلمہ قانونی طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبائی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر پُرامن رات بھر دھرنا دیا، جس کا واحد اور جائز مطالبہ یہ تھا کہ عمران خان کو فوری طور پر اپنے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے تاکہ ایک آزاد، شفاف اور غیر جانبدار طبی معائنہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو بھی ان کی صحت سے متعلق آگاہ نہیں رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق، اخلاقی اقدار اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اہم معلومات دانستہ طور پر چھپائی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر مسلسل پابندیاں ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں، جس میں سیاسی انتقام اور جبری تنہائی نمایاں ہے۔شفیع جان نے مزید بتایا کہ وزیرِاعلیٰ اور دیگر نمائندوں نے معزز عدالت سے بھی رجوع کیا تاکہ عمران خان کی صحت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت حاصل کی جا سکے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت اس نہایت حساس اور سنگین معاملے پر بھی منفی رویے اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان اور ہمدرد عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں آئینی ذمہ داریوں اور اخلاقی فرض کی ادائیگی سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بغیر شفاف طریقہ کار کے ہسپتال منتقل کرنا، رسائی محدود کرنا اور طبی تفصیلات کو پوشیدہ رکھنا عوامی بے چینی کو ناگزیر طور پر بڑھاتا ہے۔ ایسے اقدامات خوف اور بداعتمادی کی فضا کو جنم دیتے ہیں۔شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کی صحت مستحکم ہے تو حقائق اہلِ خانہ اور عوام کے سامنے کھلے طور پر کیوں نہیں رکھے جا رہے؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ، قانونی ٹیم، سیاسی قیادت اور ذاتی معالجین کو فوری اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے، اور سیاسی انتقام پر مبنی اس طویل اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کا خاتمہ کیا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی مزید غفلت ناقابلِ قبول ہوگی، اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر عائد ہوگی۔

مزید پڑھیں