خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبے میں قانون سازی، عدالتی اصلاحات اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاسوں میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ بلدیات، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو، سابق صوبائی محتسب جمال الدین شاہ، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں خیبر پختونخوا کورٹ فیس (ترمیمی) بل 2025 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مجوزہ ترمیمی بل کے مختلف قانونی پہلوؤں، عدالتی فیسوں کے موجودہ ڈھانچے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ورچوئل ہیرنگ سے متعلق فیسوں میں ممکنہ تبدیلیوں پر سفارشات پیش کی گئیں، تاہم وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ کورٹ فیس ایکٹ کا ہائی کورٹ کی شمولیت سے جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ ضروری ترامیم کے ذریعے قانون کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا جس میں ہائی کورٹ کے نمائندگان کو شامل کیا جائے گا۔دوسرے اجلاس میں صوبے میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں، متعلقہ قانونی ترامیم اور دیگر انتظامی و قانونی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے کے کلیدی نکات پر تفصیلی مشاورت کی گئی جن میں انتخابی عمل کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل شامل تھے۔کمیٹی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا تاکہ بلدیاتی انتخابات کو مزید شفاف، مؤثر اور عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ وزیرِ قانون نے اس موقع پر زور دیا کہ بلدیاتی نظام کے اسٹرکچر کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے اور اختیارات کی نچلی سطح تک مؤثر اور موزوں تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔اجلاس میں قانون سازی کے عمل، مقدمات کی التواء، بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، برفباری کے باعث رسائی میں درپیش مشکلات اور ان عوامل کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حائل رکاوٹوں پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

مزید پڑھیں