وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے اکبر پورہ نوشہرہ کا دورہ کیا اور بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے اکبر پورہ نوشہرہ کا دورہ کیا اور بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر رکنِ قومی اسمبلی ذوالفقار خان، رکنِ صوبائی اسمبلی اشفاق خان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ اکرام بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ یہ یونٹ حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔آر ایچ سی اکبر پورہ میں نئے بلاک کی توسیع اور تعمیر کا منصوبہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ خیبر پختونخوا کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔توسیعی منصوبے اور نئی عمارت کی تعمیر سے نئے بلاکس اور یونٹس کے لیے اضافی جگہ میسر آئے گی جس سے صحت کی سہولیات میں نمایاں توسیع اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت کو منصوبے کے دائرہ کار اور علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق اس کے متوقع اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے لیبارٹری، ایکس رے روم اور مائنر آپریشن تھیٹر کا دورہ کیا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے صحت مراکز میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔خلیق الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ نئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام بنیادی سطح کے صحت مراکز میں مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں ضروری طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت بنیادی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری اور بڑے اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اصلاحات سے اضلاع کی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات مضبوط ہوں گی، غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور ثانوی و ثالثی سطح کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ضرورت کے مطابق نئے بڑے ہسپتال قائم کرنے کے عمل میں بھی مصروف ہیں تاکہ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور رش کو کم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والی ہیلتھ پالیسی سے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری آئے گی اور صوبے کے عوام جلد مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے

مزید پڑھیں