چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کو منگل کے روز ایک اجلاس کے دوران آنے والے مون سون سیزن کے لئے ایک جامع فلڈ ریسپانس پلان پیش کیا گیا، جس کا مقصد مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی اداروں کی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔یہ پلان گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد قدرتی آفات کی صورت میں فوری اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری ریلیف، سیکرٹری منصوبہ بندی، ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، ڈی جی ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک جامع اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت صوبے کے حساس اضلاع میں نشاندہی کیے گئے 60 واٹر ریسکیو پوائنٹس پر پری فیبریکیٹڈ اور پورٹیبل اسٹرکچرز قائم کیے جائیں گے۔ ان اسٹرکچرز کے قیام کے لیے ٹائم لائنز بھی مرتب کر لی گئی ہیں جبکہ خصوصی ریسکیو آلات کی خریداری کا عمل جاری ہے۔خریدے جانے والے آلات میں واٹر ریسکیو گیئر، انفلیٹیبل کشتیاں، رَسی پھینکنے والی گنز، نگرانی اور سرچ اینڈ ریکوری کے لیے ڈرونز شامل ہیں۔ دور دراز اور مشکل علاقوں تک رسائی، بروقت رابطے اور بہتر ہم آہنگی کے لیے میڈیکل موٹر بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ریسکیو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیونیکیشن سسٹمز اور سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔منصوبے میں ارلی وارننگ اور کمیونٹی موبلائزیشن سسٹم کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت آگاہ اور تیار رکھا جا سکے۔ مزید برآں، تکنیکی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جو سیلاب سے نمٹنے کے لیے نئی تجاویز اور حکمتِ عملیاں تیار کریں گے۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پلان پر کام کو تیز کیا جائے اور چیف سیکرٹری آفس اس پر پیش رفت اور عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے پیشگی پلان مقصد صوبے کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا اور عوام کی جان و مال کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔
