خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت میں خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت میں خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور موجودہ شقوں، مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی۔ خاص طور پر صوبے میں مالی نظم و ضبط، قرضہ جاتی حدود، بجٹ خسارے اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر غور کیا گیا، جن میں قرض لینے کے مقاصد کو محدود کرنا، عارضی کیش ضروریات کے لیے قرض لینے کی شق ختم کرنا، غیر مالی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی شرح بڑھانا اور قرضوں کی ادائیگی کی حد کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد صوبے میں مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا، قرضہ جات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا اور مالی شفافیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی عوامی قرضوں اور گارنٹیز کی حد کم کرنے، پنشن واجبات سے متعلق شق ختم کرنے اور سرکاری اداروں کے قرضوں کو مجموعی حد کے تحت منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں قرضہ جاتی نظم و نسق سے متعلق قانون کی شق 11 میں ترمیم پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت Debt Management Unit کی جگہ Debt Management Office کے قیام کی تجویز دی گئی۔ مجوزہ دفتر کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے جبکہ عملہ مسابقتی بنیادوں پر کنٹریکٹ کے تحت تعینات ہوگا، جس میں مدتِ ملازمت، توسیع اور کارکردگی سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ذمہ دارانہ مالی پالیسی، شفاف حکمرانی اور آئینی تقاضوں کے مطابق قانون سازی پر یقین رکھتی ہے، اور ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دے کر صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ کوئی بھی محکمہ قرض لینے سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری کا پابند ہوگا جبکہ گرانٹس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دیں گے، اور خودمختار ادارے صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر قرض نہیں لے سکیں گے۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد محکموں کو کم سے کم قرض لینے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے صوبے کے خسارے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے گی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قانون سازی سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم قابلِ عمل اور صوبے کے مالی مفاد کے مطابق ہوں۔

مزید پڑھیں