آڈیٹر جنرل آف پاکستان، مقبول احمد گوندل نے پشاور کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے خیبر پختونخوا میں اکاؤنٹس اور آڈٹ دفاتر کی کارکردگی، انتظامی امور اور جاری اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آمد پر اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا خالد محمود، ڈپٹی آڈیٹر جنرل (نارتھ) شاہ رحمان اور پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے دیگر افسران نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر آڈیٹر جنرل کو صوبے میں عوامی مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے جاری اور مجوزہ اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کیش لیس نظام کی طرف منتقلی، ای آفس کا نفاذ، دفتری امور کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت کا فروغ اور سخت احتسابی نظام اصلاحاتی عمل کے بنیادی ستون ہیں، جن پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج پر مبنی کارکردگی کو ترجیح دی جائے گی اور صوبہ بھر میں سروس ڈیلیوری کے معیار کی وہ ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔ آڈیٹر جنرل نے واضح کیا کہ کوتاہی یا غفلت کی صورت میں ذمہ داری کا تعین یقینی بنایا جائے گا، جبکہ اصلاحات کے نفاذ میں بہتر کارکردگی، جدت اور عملی اقدامات کرنے والے افسران اور دفاتر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے حکومت خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی روابط کو مستحکم کرنا، ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ایک مؤثر، جوابدہ اور جدید عوامی مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔دورے کے اختتام پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صوبے میں اکاؤنٹس اور آڈٹ دفاتر کی کارکردگی کو سراہا اور افسران پر زور دیا کہ وہ اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھیں، پیشہ ورانہ دیانت داری اور شفافیت کے اعلیٰ معیار پر قائم رہیں اور ڈیجیٹل گورننس اور مالی نظم و ضبط سے متعلق قومی ترجیحات کے مطابق اپنے امور انجام دیں۔
