خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو اہم مسائل سے متعلق خطوط ارسال کئے تھے تاہم دونوں حضرات نے جوابات دینے مناسب نہیں سمجھے اور نہ ہی خطوط پر عمل درآمد کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو بیجھے گئے خطوط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو خطوط ارسال کئے تھے تاہم دونوں حضرات نے جوابات دینے مناسب نہیں سمجھے اور نہ ہی خطوط پر عمل درآمد کی۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ یقین دہانی کے لیے ریکارڈ درست کرنا چاہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وزیرِ تجارت جام کمال اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خطوط ارسال کئے تھے۔ وزیر تجارت جام کمال کو لکھے گئے خط میں خیبرپختونخوا کی افغانستان کے ساتھ تجارت سے متعلق اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی اسی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کو خیبرپختونخوا اور چھوٹے صوبوں کے اہم مسئلہ بارے خط لکھا گیا تھا کہ خط خیبرپختونخوا آبادی کی مالی شمولیت اور صوبے میں جمع ہونے والے ڈپازٹس کے مقابلے میں زیادہ مقامی قرضہ جات فراہم کرنے کے حوالے سے تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ میرے دفتر نے بارہا وزیرِ تجارت کے دفتر سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور وفاقی وزارت کی جانب سے ملکی برآمدی صلاحیت میں عدم دلچسپی کے باعث برآمدات مسلسل کم ہو رہی ہیں اسی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کا رویہ چھوٹے صوبوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گورنر کا صوبائی حکومتوں سے شاذ و نادر ہی کوئی رابطہ ہوتا ہے یہ سب مسائل وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیرِ خزانہ کے سامنے اٹھائیں گے پاکستان کو اہم عہدوں پر بہتر لوگوں کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں