پاکستان کی پڑوسی ممالک سے تجارت تقریباً ختم ہے افغانستان کے ساتھ تجارت پچھلے تین ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت تقریباً ختم ہو گئی ہے بھارت کے ساتھ پہلے سے ختم ہے ایران کے ساتھ تجارت امریکا کی وجہ سے نہیں ہو رہی اور پچھلے تین مہینوں سے افغانستان کے ساتھ بھی تجارت تعطل کا شکار ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جنوری میں برآمدات مثبت سرپرائز تھی کیونکہ تین ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات ریکارڈ کی گئی اگر یہ مومینٹم برقرار رھا تو پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایک تقریب میں ایکسپورٹرز کیلئے اعلانات کیے جن میں ایک اعلان یہ تھا کہ ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ریفنانس میں ساڑھے چار فیصد کے حساب سے برآمدات پر قرض ملے گا مطلب تین فیصد ریلیف ایکسپورٹرز کو دیا گیا جو ایکسپورٹرز کیلئے اچھی خبر تھی اور یہ ریلیف حکومت نے بینکوں کے کھاتے میں ڈال دیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت نے صنعتی بجلی کی یونٹ تقریباً چار روپے کم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے صنعتکار خوش ہوگئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 200 یونٹس اور 500 یونٹس بجلی والے صارف تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ ہیں جس کے فکسڈ چارجز میں 200 سے 650 روپے تک اضافہ کیا جائے گا جس سے تقریباً 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے جس سے صنعتکاروں کو 4 روپے فی یونٹ بجلی میں ریلیف دی جائیگی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صنعتکاروں کو بلکل ریلیف دینی چاہیے لیکن جس ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس سے پیسے لیکر صنعتکاروں کو دینا ظلم ہے کیا عام عوام کی آمدن بڑھ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 200 یونٹس تک اور پھر 500 یونٹس تک کے صارفین کو بجلی آمدن کے لحاظ سے بہت مہنگی ہے اسلئے بہت سارے چھوٹے صارفین سولر بجلی پر آگئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کر رہی اور نہ ہی اسکادھیان اپنے غلط کیے گئے معاہدے پر جاتا ہے بلکہ غریب کے ساتھ مزید زیادتی کرنے پر اتر آئی ہے۔ کم بجلی والے صارفین پر فکسڈ چارجز میں اضافے سے مزید بوجھ آئے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے متحدہ عرب امارات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ویزہ پر سختی عائد کی ہے اور جو دو ارب ڈالر پاکستان کو بطور قرض دئیے تھے وہ پہلے سال کیلئے رول اوور کرتے تھے اب ایک مہینے کیلئے کیے ہیں اور جس پر سود شرح کی ساڑھے چھ فیصد ڈیمانڈ کی ہے۔ ساڑھے چھ فیصد شرح سود 130 ملین ڈالر بنتے ہیں جو پاکستانی روپے میں 36 ارب روپے بنتے ہیں۔حکومت کو خودداری دیکھا کر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں