پشاور میں نیاز ادبی سنگر کے زیرِ اہتمام پشتو ادب کے نامور شاعر، ادیب، صحافی، ڈرامہ نگار اور ترقی پسند فکری رہنما نورالبشر نوید کے اعزاز میں“رنگا رنگ مازیگرے”کے عنوان سے ایک شاندار اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ پشتو محض ایک زبان نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات اور طرزِ زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتو زبان اور ادب کی خدمت کرنے والے افراد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور نورالبشر نوید جیسی شخصیات خصوصی قدر و منزلت کی مستحق ہیں۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے مزید کہا کہ نورالبشر نوید پشتو ادب کا ایک عظیم اور لازوال کردار ہیں۔ پریذیڈیم میں نیاز ادبی سنگر کے چیئرمین پروفیسر اسیر منگل، نامور پشتو شاعر رحمت شاہ سائل، پاکستان ٹیلی وژن پشاور کے سابق سینئر پروڈیوسر و ہدایتکار صلاح الدین، سابق سینئر پروڈیوسر و پروگرام منیجر مسعود احمد شاہ، سابق کمشنر و صوبائی سیکرٹری سید محمد جاوید، پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ لیاقت، نیاز ادبی سنگر کے کابینہ رکن محمد زبیر خان اور سنگر کی “آرٹ ونگ” کے سربراہ نورالبشر نوید موجودتھے۔نورالبشر نوید نے اپنی گفتگو میں نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز سمیت سنگر کی پوری کابینہ، کلچر ونگ، ہنری ونگ اور تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے روزنامہ وحدت کے ایڈیٹر سید ہارون شاہ اور دیگر دوستوں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں شیلڈز، گلدستے اور تحائف پیش کیے۔ نورالبشر نوید نے کہا کہ شرکاء کی محبت اور خلوص نے ان کے دل میں سب کے لیے محبت اور دوستی کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔پروفیسر اسیر منگل نے کہا کہ نورالبشر نوید ایک اعلیٰ معیار کے قوم پرست ادیب، فکری جدوجہد کرنے والے دانشور اور ترقی پسند شاعر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کا اتحاد اور اتفاق بشر نوید کی شاعری، صحافت اور سیاسی فکر کا مرکزی پیغام ہے اور ان کا نظریہ ایک آفاقی انسانی نظریہ ہے۔
نامور شاعر رحمت شاہ سائل نے کہا کہ نورالبشر نوید فکر و عمل کے میدان وسیع ہیں اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا، محبت اور اخلاص کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے نیاز ادبی سنگر کو زندہ شخصیات کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پرصلاح الدین نے کہا کہ نورالبشر نوید گہرے فکری شعور کے حامل ڈرامہ نگار ہیں اور ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کے بعد وہ پشتو کے نمایاں ڈرامہ نویس ہیں۔مسعود احمد شاہ نے کہا کہ نورالبشر نوید سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں اقسام کی ڈرامہ نگاری میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل نے کہا کہ نورالبشر نوید کی فکری و عملی خدمات شاعری، افسانہ، ڈرامہ، کالم نگاری، ادبی صحافت اور قومی ترقی پسند سیاسی فکر پر مشتمل ہیں، اور وہ ان تمام میدانوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔نورالبشر نوید کے صاحبزادے منصور نوید نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ آج ان کے والد کے اعزاز میں یہ شاندار تقریب منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ادب، صحافت اور سیاست میں مقام حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی اور وہ ان کے استاد، دوست اور رہنما ہیں۔تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر حسرت، فرید اللہ شاہ حساس اور نیاز ادبی سنگر کے میڈیا سیکرٹری صادق امن زئی نے نورالبشر نوید کی زندگی اور فن پر مقالے پیش کیے، جبکہ معروف ادیب و صحافی روخان یوسفزئی نے ان پر خاکہ پیش کیا۔نامور شعرا رحمت شاہ سائل، ڈاکٹر کاظم نیاز، فضل سبحان عابد، نمروز قیس، جوہر خلیل اور حمیدالرحمان نادان جبکہ نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین امجد علی خادم نے معروف ادیب و شاعر نورالبشر نوید کو منظوم عقیدت پیش کی۔اس سے قبل ذہین بچوں حسن منیر اور فریال منیر نے مکالماتی انداز میں نورالبشر نوید سے اپنی محبت اور ان کی شفقت کا خوبصورت اظہار کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔رنگا رنگ مازیگرے کی دوسری نشست میں ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیاز ادبی سنگر کے کلچر ونگ کے سربراہ فیاض خان خیشگی، سنگر کی کابینہ کے رکن وقار لائق، کلچر ونگ کے اراکین واجد لائق اور شمال نیاز نے موسیقی کے ساتھ نورالبشر نوید کا منتخب کلام پیش کیا، جس سے تقریب کی خوبصورتی اور رنگینی میں مزید اضافہ ہوا۔اس موقع پر کلچر ونگ کے معاون سربراہ شاکر زیب نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور نوید کی خوبصورت کلام موسیقی کے ساتھ پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر نیاز ادبی سنگر کی جانب سے نورالبشر نوید کو پشتو زبان، ادب اور ثقافت کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر مختلف ادبی حلقوں کی جانب سے شیلڈز، گلدستے اور خصوصی تحائف بھی پیش کیے گئے۔تقریب میں نیاز ادبی سنگر کے جنرل سیکرٹری فریدون خان, سنگر کابینہ کے اراکین قیصر کاکاخیل, آرٹ ونگ کے معاون سربراہ جمشید علی خان, ستار خان, کشر ہارون الرشید سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
