محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کا انسداد منشیات کے حوالے سے ایک اور اہم قدم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کے انسداد منشیات کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی اور منشیات سے پاک خیبر پختونخوا کے عزم کے تحت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کیساتھ مشترکہ گرینڈ آپریشن میں ضلع مہمند اور صوابی میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل تلف کر دی۔ضلع ممند کے تحصیل امبار میں پوست کی کاشت کے خلاف مشترکہ گرینڈ آپریشن کے دوران 37 ایکڑ فصل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔مذکورہ آپریشن ای ٹی او مہمند،ضلعی انتظامیہ،ایکسائز تھانہ پشاور ریجن اور محکمہ پولیس و ایکسائز کے دیگر افسران و اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔بیر گلی صوابی میں بھی محکمہ ایکسائز نے انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں اور محکموں کیساتھ مشترکہ آپریشن میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل کو تلف کیا۔کارروائیوں کے دوران آپریشن ٹیموں نے متعلقہ مقامات پر پہنچ کر فصل کی موجودگی کی تصدیق کی اور متعلقہ ضابطہ کار کے مطابق پوست فصل کو تلف کیا گیا تاکہ اس کی مزید پیداوار، ذخیرہ اندوزی یا ترسیل کو روکا جا سکے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے واضح کیا ہے کہ حکومت منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم کہیں پر بھی منشیات نہیں چھوڑیں گے خواہ اسکے ڈیلرز ہوں یا سمگلرز، انکے خلاف ہماری کاروائی جارہی رہیں گی۔انھوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ منشیات کے خلاف کھیتوں میں بھی ہمارا آپریشن جاری رہے گا اور اسکی ٹرانسپورٹیشن میں بھی ملوث مافیا اور عناصر کے خلاف بے رحم کاروائیاں تسلسل کیساتھ جاری رہیں گی جبکہ غیر قانونی کاشت، پیداوار اور ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔مہمند آپریشن میں سجاد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع ممند، سیف اللہ آفریدی سرکل آفیسر، عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن اور دیگر افسران و اہلکاروں اور انتظامیہ و متعلقہ اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔اسی طرح ضلع صوابی آپریشن میں اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یاسمین ثنا، شکیل خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع صوابی، عاکف نواز خان سرکل آفیسر، شکیل خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان ریجن اور دیگر ایکسائز افسران و اہلکاروں،اے این ایف اور دیگر اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔

مزید پڑھیں