وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان کی ہدایات پر پشاور میں جعلی مینینجائٹس ویکسین کی فروخت اور غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا

وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان کی ہدایات پر پشاور میں جعلی مینینجائٹس ویکسین کی فروخت اور غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا۔ محکمہ صحت کی انسپکشن ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا جبکہ موبائل سیلرز کے قبضے سے جعلی ویکسین کی بڑی مقدار برآمد کر کے فوری طور پر ضبط کر لی گئی۔ ضبط شدہ ویکسین کو مزید لیبارٹری جانچ اور قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمان نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی ویکسین کی تیاری، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوامی شکایات پر فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر متعلقہ افسران یا عملے کی غفلت، کوتاہی یا شکایات پر بروقت اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی ہوئی تو ان کے خلاف بھی محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو معیاری، مستند اور محفوظ ویکسین کی سرکاری سطح پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں فائزر کمپنی کی جانب سے آئندہ دو دنوں میں چار سو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ ویکسین کی دستیابی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو اور شہریوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ویکسین صرف سرکاری ہسپتالوں اور مستند مراکز صحت سے حاصل کریں اور کسی بھی غیر مجاز فرد یا موبائل سیلرز سے ویکسین خریدنے سے گریز کریں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ صحت یا ضلعی انتظامیہ کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا عوام کی صحت کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ صوبے میں ادویات اور ویکسین کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں