محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا میں روڈ میپ پر عملدرآمد کے جائزے کے لیے روڈ میپ امپلیمینٹیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس محکمہ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا میں روڈ میپ پر عملدرآمد کے جائزے کے لیے روڈ میپ امپلیمینٹیشن کمیٹی (RIC) کا جائزہ اجلاس محکمہ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے کی جبکہ اس موقع ایڈیشنل سیکرٹری متعلقہ ڈائریکٹرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز، انجینئرز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آئی پی ایم ایس (IPMS) ڈیش بورڈ پر ظاہر ہونے والی تمام انٹرونشنز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس میں منصوبوں کی فزیکل اور فنانشل پیش رفت، اہداف کے حصول، درپیش تکنیکی و انتظامی مسائل اور ان کے حل کے لیے مجوزہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت جاری کی کہ زیر التواء نکات کو فوری طور پر نمٹایا جائے۔ ذمہ دار افسران کو پابند کیا گیا کہ وہ مقررہ ٹائم لائن کے اندر پیش رفت رپورٹ جمع کرائیں اور تاخیر کی صورت میں وجوہات سے آگاہ کریں۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک (CPEC) کو ہدایت کی گئی کہ جہاں سکیموں کی سائٹ ویریفکیشن باقی ہے وہاں متبادل مقامات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور جن منصوبوں کو حتمی شکل دی گئی ہے ان کے پی سی ون جلد از جلد متعلقہ فورمز کو ارسال کیے جائیں تاکہ منظوری اور فنڈنگ کے مراحل میں تاخیر نہ ہو۔اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جن سکیموں کو حتمی شکل دی گئی ہے ان کیجغرافیائی کوآرڈینیٹس ای گورننس جی آئی ایس ٹیم کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ سائٹس کی دوبارہ تصدیق، درست جیو ٹیگنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے یہ بھی طے کیا کہ ڈائریکٹر (لیبز اینڈ پراجیکٹس) فوری طور پر UNOPS کو اپ ڈیٹ شدہ ٹرمز آف ریفرنس (ToRs) اور سکوپ آف ورک فراہم کریں تاکہ تکنیکی معاونت اور پراجیکٹ مینجمنٹ کے عمل کو مؤثر اور بروقت مکمل کیا جا سکے۔سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے کہا کہ روڈ میپ پر مؤثر عملدرآمد، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے شفافیت اور بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں اور فیلڈ لیول پر درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔

مزید پڑھیں