خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی محمد یامین خان، محمد زبیر خان، محمد انور خان، احمد کریم کنڈی، محترمہ فائزہ ملک اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات، ڈائریکٹر جنرل معدنیات معہ متعلقہ عملہ، محکمہ قانون، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مختلف پارلیمانی سوالات اور سابقہ اجلاس کے احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے سوال پر محکمہ معدنیات نے کمیٹی کو متعلقہ امور سے آگاہ کیا۔جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اسمبلی حکام اور محکمہ معدنیات کو ہدایت کی کہ اگلے ہفتے ایک اجلاس بلوایا جائے جس میں متعلقہ افسران کو مدعو کیا جائے تاکہ تمام بند لیزوں پر دوبارہ سے کام کا آغاز کروایا جاسکے اور مستقبل میں تنازعات سے بھی بچا جاسکے اور عوام کے ساتھ ساتھ صوبے کو اس کے ترقیاتی اور محصولاتی ثمرات مل سکیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اکرام اللہ غازی نے محکمہ معدنیات کو ہدایات کی کہ محکمے سے منسلک تمام لیگل ایڈوائزر کا مکمل ڈیٹا بمع ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کیاجائے۔ اسی طرح محکمے کے تمام زیر التوا کیسز کا بروقت خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو اس کے مثبت نتائج مل سکیں۔ اکرام اللہ غازی نے مزید ہدایت کی کہ محکمے میں دو سالہ پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی پر بھی سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور ان تمام افسران کا تبادلہ کروایا جائے جنہوں نے ایک ہی سٹیشن پر دو یا دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزار رکھا ہو اور اس تمام عمل میں مکمل میرٹ اور شفافیت سے کام لیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ اجلاس میں جیالوجی اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو بھی بلوایا جائے تاکہ ان سے مفید مشورات مل سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منرل ٹیسٹنگ اتھارٹی کے قیام کو بھی جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ معدنیات کے شعبے میں صوبے کو تر قی سے ہمکنار کیا جاسکے اور معدنیات کی مد میں حاصل ہونے والے محصولات کو مزید بہتر اور مستحکم بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں