صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف قانونی مسودات اور مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا،ایس ایم بی آر، سیکرٹری محکمہ قانون، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ خزانہ، ایڈوکیٹ جنرل آفس، بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام، قانونی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترمیم، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ، ضابطہ فوجداری خیبرپختونخوا میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، انصاف تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ضابطہ فوجداری ترمیمی بل کی سیکشن 117 کی سب سیکشن 22-اے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کمیٹی شرکاء نے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ وزیر قانون نے صوبے میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی کے بارے میں حکومتی عزم کا اعادہ کیاجن کا مقصد نظامِ انصاف کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام نے اس حوالے سے ایک تقابلی جائزہ بھی پیش کیا، جن کا مقصد عدالتی امور سے متعلق معاملات میں بہتری، شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے۔ الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) ترمیمی بل کی شق 7 جو ثالثین سیلیکشن کمیٹی کے تعین سے متعلق ہے اور جس کی باڈی کمشنر متعلقہ ڈیوژن، ریجنل پولیس آفیسر، متعلقہ ضلع کاسینئر سول جج (ایڈمن)، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، سپیشل برانچ کے نمائندے اور متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر پر مشتمل ہوگی میں ضروری ترامیم پر مشاورت کی گئی۔علاوہ ازیں اے ڈی آر کو کارگر بنانے کے متعلق ٹرسٹ ڈیفیسٹ (اعتماد کی کمی) بالخصوص ضم اضلاع میں اس کی ضرورت بارے درکار اقدامات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ایڈووکیٹ جنرل نے اس موقع پر فورم کو آگاہ کیا کہ اے جی آفس اے ڈی آر کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقی بنیادوں پر مذکورہ قانون کی جانچ کی جارہی ہے۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے حتمی شکل دی جائے اور اس عمل میں متعلقہ فریقین سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون سازی عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ایک منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی قانونی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا اور متعلقہ حکام کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

مزید پڑھیں