محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے مابین شہری علاقوں کی اہم آبی گزرگاہوں میں جاری ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور سپروژن کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کی تقریب محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی جہاں سیکرٹری آبپاشی محمد عابد وزیر اور وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور پروفیسر ڈاکٹر محمد صادق خٹک کی موجودگی میں معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد عابد وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی کابینہ کی طرف سے سمری کی منظوری کے بعد پی ڈی ڈبلیو پی فورم نے 9 اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس میں اہم شہری آبی گزرگاہوں کو صاف کرنے کے لیے نان اے ڈی پی(Non ADP) سکیم 4793.6 ملین روپے کی لاگت منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے 18 اضلاع کے 466 پوائنٹس پر تقریباً 322 کلومیٹر اہم شہری آبی گزرگاہیں ہیں جن پر عمل درآمد کے بعد اس کی صلاحیت میں 67 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے مذید کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد شہری آبی گزرگاہوں، نالوں اور نہروں میں جاری صفائی، ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ کے کاموں کی شفاف نگرانی، تکنیکی جانچ اور معیار کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر اور درست استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی سے نکاسی آب کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی جس سے بارشوں کے دوران شہری سیلابی خطرات اور پانی جمع ہونے کے مسائل میں کمی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہری سیلابی خطرات کے تدارک اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور اور محکمہ آبپاشی کی مشترکہ ٹیمیں منصوبوں کی تکنیکی نگرانی، سپروژن اور ویلیڈیشن انجام دیں گی تاکہ تمام ترقیاتی سرگرمیاں مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جدید تکنیکی مہارت اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔محمد عابد وزیر نے محکمہ آبپاشی کی جانب سے تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہروں اور آبی گزرگاہوں کے اوپر تجاوزات کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں محکمہ آبپاشی نے کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بریکوٹ سے کالام تک متعدد بڑے ہوٹلوں سے محکمہ آبپاشی کی قیمتی زمینیں واگزار کرائی گئی ہیں تاکہ آبی گزرگاہوں کی قدرتی روانی بحال رکھی جا سکے اور مستقبل میں سیلابی خطرات سے بچاؤ ممکن ہو۔
