خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں نے گھریلو تشدد ایکٹ 2021 کے تحت ضلعی تحفظ کمیٹیوں (ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹیز) کے قیام اور نوٹیفکیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو بروقت معاونت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس سلسلے میں سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وویمن ایمپاورمنٹ کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات کی روک تھام اور متاثرین کی مؤثر معاونت کے لیے ضلعی تحفظ کمیٹیوں کا فعال کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران گھریلو تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات کے پیش نظر ایسے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو متاثرہ خواتین اور دیگر متاثرین کو تحفظ، رہنمائی اور ضروری خدمات کی فراہمی یقینی بنا سکے۔کمیشن کے مطابق ضلعی تحفظ کمیٹیاں مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے، قانون پر مؤثر عملدرآمد اور متاثرین تک سہولیات کی بروقت رسائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ضلعی تحفظ کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن اور ان کی فعالیت کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تاکہ گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو بروقت تحفظ اور معاونت کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔ کمیشن نے اس سلسلے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون، رابطہ کاری اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
