سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے گڈ گورننس کے تحت محکمہ میں بہتری ، شفافیت اور احتساب کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام ماتحت اداروں کوسختی سے ہدایت جاری کی ہیں کہ وہ ناقص کارکردگی کے حامل ملازمین کی فہرست تیار کریں اور ایسے افسران کو حساس اور عوام سے براہ راست رابطے والی اسامیوں پر تعینات نہ کیا جائے، جبکہ تمام تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں۔ حکومت نے سرکاری خریداری اور مالیاتی امور میں شفافیت یقینی بنانے، عوامی شکایات کے موثر ازالے کا نظام قائم کرنے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور افسران کو بروقت اور موثر عوامی خدمت کا پابند بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ کرپشن معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے جواداروں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے محکمہ توانائی اوراسکے تما م ذیلی اداروں میں کرپٹ افسران واہلکاروں کے لئے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ادارے میں اب کوئی بھی کرپشن میں ملوث پایا گیا تواس کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی ہدایات کی روشنی میں دیگراداروں کی طرح محکمہ توانائی وبرقیات میں بھی عوامی شکایات سیل قائم کردیاگیا ہے جس کی مانیٹرنگ روزمرہ کی بنیادوں پر شفاف ومیرٹ کی بنیادوں پرکی جائے گی اورعوامی شکایات کا ازالہ بروقت کیا جائے گا۔ محکمہ توانائی اوراسکے تمام ماتحت اداروں کی ملکیتی ایسی تمام سرکاری گاڑیاں جوکہ غیرمجازافراد اوراداروں کے زیراستعمال ہیں کی واپسی کے لئے سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔محکمے کا عوام میں اچھاامیج لانے کے لئے کھلی کچہریوں کے ذریعے براہ راست رابطے تیز کردیئے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ توانائی میں ایک جلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ماتحت اداروں پیڈو،کے پی آئل اینڈ گیس کمپنی،انسپکٹریٹ آف الیکٹریسٹی،کے پی ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے سربراہاں سمیت ادارے کے سینئرافسران نے شرکت کی۔ اجلا س میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے ہدایت کی کہ محکمے کے تمام افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی اور دیانت داری کا ریکارڈ مرتب کیاجائے جس کی روشنی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی جبکہ بدعنوانی، غفلت یا بدانتظامی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے تمام فیلڈ افسران بشمول پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو بھی خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی امور میں اب غیر ضروری تاخیر پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔محکمے میں قائم شکایت سیل میں رشوت یا غیر قانونی مطالبات سے متعلق ہر شکایت کی فوری تحقیقات کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔انتظامی اصلاحات کے تحت محکموں میں امور کے انجام دینے کےطریقہ کار آسان بنانے، غیر ضروری مراحل ختم کرنے، اختیارات کی مناسب سطح پر منتقلی اور تمام خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ درخواستوں، ان کی نگرانی اور خدمات کی فراہمی آن لائن ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے ماتحت اداروں کے سربراہان کو فیلڈ دفاتر اور ترقیاتی منصوبوں کے اچانک دورے کرنے کی ہدایت کی اورکارکردگی کو طے شدہ اہداف کے مطابق جانچ کررپورٹ پیش کرنے کی سختی سے ہدایات جاری کیں۔
