سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی، گزشتہ ہفتے 3 لاکھ 6 ہزار سے زائد تھیلے فراہم

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے گزشتہ ہفتے صوبہ بھر میں سرکاری نرخ پر فراہم کیے گئے آٹے کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تفصیلات میں کہا گیا کہ 1639 فعال آٹا ڈیلرز کے ذریعے مجموعی طور پر 3 لاکھ 6 ہزار 303 آٹے کے تھیلے شہریوں کو سرکاری نرخ پر فراہم کیے گئے۔
محکمہ خوراک کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پشاور ڈویژن میں 86 ہزار 854، مردان ڈویژن میں 40 ہزار 401، ملاکنڈ ڈویژن میں 59 ہزار 264، ہزارہ ڈویژن میں 65 ہزار 682، بنوں ڈویژن میں 20 ہزار 700، ڈی آئی خان ڈویژن میں 33 ہزار 402 جبکہ کوہاٹ ڈویژن میں 23 ہزار 224 آٹے کے تھیلے فراہم کیے گئے۔
محکمہ خوراک کے حکام کا کہنا تھا کہ آٹے کی سرکاری فراہمی کے نظام میں ایس او پیز اور قانون کی خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی کی گئیں، پشاور میں 14 آٹا ڈیلرز کا کوٹہ اور لائسنس منسوخ کیے گئے، جبکہ ضلع خیبر میں 11 ڈیلرز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اسی طرح چارسدہ میں ایک فلور مل اور 7 آٹا ڈیلرز جبکہ نوشہرہ میں 2 فلور ملز اور 15 ڈیلرز کا سرکاری کوٹہ منسوخ کیا گیا ہے۔
حکام محکمہ خوراک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے صوبائی اسٹریٹجک ریزرو سے فلور ملز کو روزانہ 3 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم ریلیز کی جا رہی ہے
حکام کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے شہریوں کو 20 کلوگرام سرکاری آٹے کا تھیلا 2520 روپے میں منتخب ڈیلرز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔
محکمہ خوراک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک کی ٹیمیں گندم اور آٹے کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور ملز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری گندم سے تیار کردہ آٹے کے معیار پر نظر رکھیں اور غیر معیاری آٹے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔انہوں نے کہا کہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا سرکاری کوٹہ منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت خیبرپختونخوا عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر غیر آئینی پابندی کے باعث ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی آزادانہ تجارت میں تاحال رکاوٹیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں