
مولانا طیب قریشی ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اوقاف ، حج ، مذہبی و اقلیتی امور کی زیر صدارت محکمہ حج، اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری محمد ادریس، ایڈیشنل سیکرٹری حبیب خان آفریدی، ایڈمنسٹریٹر اوقاف سمیت محکمے کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ کی ادارہ جاتی ساخت، مروجہ قوانین اور مختلف محکمانہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے اقلیتی برادری کے کسی فرد کے انتقال کی صورت میں مالی امداد فراہم کرنے اور اقلیتوں کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ انہیں درپیش مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہو۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مساجد اور اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے
اقدامات کیے جائیں، تاکہ توانائی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور عبادت گاہوں کو بجلی کی فراہمی میں سہولت حاصل ہو۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں اقلیتی نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے، تعلیمی وظائف، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے تربیتی پروگرام اور دو انڈومنٹ فنڈز شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کو ان کی عبادت گاہوں کے لیے ضروری اشیائ فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماؤں کو ماہانہ دس ہزار روپے اعزازیہ دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ممبر ایڈوائزری کونسل مولانا طیب قریشی نے دینی مدارس کے طلبائ و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے طلبائ و طالبات کو جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبائ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں.اجلاس میں محکمہ اوقاف کی پراپرٹیز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں اوقاف کی جائیدادوں کی مجموعی صورتحال، ریکارڈ، موجودہ استعمال، آمدن اور انتظامی امور سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اوقاف کی جائیدادوں کے مؤثر انتظام، شفافیت کو یقینی بنانے، غیر قانونی قبضوں کے خاتمے اور آمدن میں اضافے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ اوقاف کی املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو عوامی فلاح و بہبود اور متعلقہ دینی و فلاحی مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
