
مشیر اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور و زکوٰۃ و عشر مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیاں اور دہشت گردی حرام ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ملک کے تمام سکیورٹی و سول اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا وطن ہے، ملکی سلامتی، قومی یکجہتی اور اتحاد کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ینگ لیڈر پارلیمنٹ کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں سمیع اللہ سینئر نائب صدر ، آصف خان جنرل سیکرٹری، ہاشم خلیل ، عامر سہیل سیمت ینگ لیڈر پارلیمنٹ کے اراکین شامل تھے۔مولانا طیب قریشی نے ینگ لیڈر پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدارس کے طلبائ میں بے پناہ صلاحیتیں اور ٹیلنٹ موجود ہے، ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں قومی دھارے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایسے فورمز میں ان کی شرکت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبائ کی تعلیمی و پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم اور ڈیجیٹل اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔مولانا طیب قریشی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن، برداشت، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ پیغام امن کمیٹی پیغامِ پاکستان کے قومی بیانیے کو یونیورسٹیوں اور کالجز تک پہنچائے گی، جن میں علمائ کرام، نوجوانوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شریک کیا جائے گا۔مولانا طیب قریشی نے کہا کہ نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل کی امید ہیں۔ نوجوانوں نے ہمت، تعلیم اور محنت کے ذریعے اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔ مغرب کا مقابلہ نفرت یا تصادم سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھ کر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبائ کو بھی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے قومی ترقی کے دھارے میں آگے لایا جائے گا، جبکہ خواتین کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان ہی پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔مشیر اوقاف نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے وطن عزیز کے قیام اور اس کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح> نے پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھا جہاں تمام شہریوں کو بلاامتیاز حقوق حاصل ہوں۔ ہمیں اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو امن، رواداری، انصاف اور باہمی احترام کا گہوارہ بنانا ہوگا۔مذہبی و اقلیتی امور کے حوالے سے مولانا طیب قریشی نے کہا کہ کسی بھی شخص کی جبری مذہبی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اقلیتی برادریوں نے ملکی ترقی اور استحکام کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں قابلِ تقلید ماڈلز موجود ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مولانا طیب قریشی نے کہا کہ معدنیات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور قومی وسائل ہیں، ان وسائل کو عوامی ترقی، روزگار اور خوشحالی کا ذریعہ بنایا جائے اور معدنی وسائل کے استعمال میں قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔مولانا طیب قریشی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی اتحاد، ریاستی اداروں کے احترام، مذہبی رواداری اور قیامِ امن کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن و استحکام، بھائی چارے اور ترقی کی فضا مزید مستحکم ہو۔
