کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت منگل کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا کی ثقافت کے فروغ، لیجنڈ فنکاروں کے کردار، اور قدیم محافِظ خانہ کو باقاعدہ “خیبرپختونخوا ہاؤس آف آرٹ اینڈ کلچر” کے طور پر فعال بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور نے کہا کہ ثقافت ہماری شناخت، تاریخ اور اقدار کی عکاس ہے، جس کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیجنڈ فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی شخصیات نے مقامی ثقافت کو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا، اور نئی نسل کو ان شخصیات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کمشنر پشاور نے کہا کہ پشاور کے محافِظ خانہ بلڈنگ کو اس کے تاریخی رنگ میں بحال کیا گیا ہے جسے ایک متحرک ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں آرٹ نمائشوں، موسیقی، شاعری، تھیٹر، ادبی نشستوں اور دیگر ثقافتی تقریبات کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے گا۔ اس مرکز کو نوجوان فنکاروں کے لئے پلیٹ فارم اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا تاکہ صوبائی ثقافت کی اصل روح کو اجاگر کیا جا سکے۔اجلاس میں شعبہ ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ادب و ثقافت کے شعبے میں کام کرنے والے تنظیموں اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ شریک شرکاء نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس تاریخی عمارت کو پشاور کی ثقافتی شناخت کی علامت بنایا جائے گا۔ کمشنر پشاور نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی اشتراک سے عملی اقدامات کا آغاز کریں تاکہ محافِظ خانہ بلڈنگ کو جلد از جلد آرٹ اینڈ کلچر ہاؤس کے طور پر عوام کے لیے کھولا جا سکے۔
