گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور دیگر حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو ابتک کی پیشرفت پر آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے گورننس روڈمیپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جو جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد تمام سکولوں میں طلبہ کو معیاری فرنیچر کی سہولت میسر ہوگی۔ محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ساڑھے تین ہزار نئے کمروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر لی ہے، اسی طرح امتحانی نظام میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 2026 میں ہر ڈسپلن کے کم از کم تین پیپرز ای مارکنگ کے طریقہ کار کے تحت یقینی بنائیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 20 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جو 28 فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں اساتذہ کی 90 فیصد حاضری یقینی بنانے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو سال 2025 میں مکمل کئے گئے اہداف پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے فروغ کے لیے نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا، جس سے طلبہ میں صحت مند سرگرمیوں کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔دریں اثنا محکمہ صحت سے متعلق چیف سیکرٹری کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت خیبرپختونخوا کے 250 بنیادی مراکز صحت میں بیسک ایمرجنسی ابسٹریکٹ اینڈ نیو بورن کئیر خدمات اور سہولیات کی 24 گھنٹے فراہمی ا ور دستیابی کو یقینی بنا یا گیا ہے۔ یہ سروسز اب دن رات دستیاب ہوں گی ان مراکز میں میڈیکل عملہ اور دیگر سہولیات بھی یقینی بنائی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے بائیو میٹرک حاضری متعارف کرائی جارہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کی ہیلتھ سیکٹر پالیسی کا ازسر نو جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایم ٹی آئیز کی کارکردگی جانچنے کے لیے پالیسی میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اصلاحات لائی جائیں گی۔ ایم ٹی آئیز ہسپتالوں میں موثر گورننس کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ آف گورنرز اراکین کی اہلیت کے معیار کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ حال ہی میں، محکمہ صحت نے دو کامیاب امیونائزیشن مہم چلائیں، پشاور میں خصوصی مہم میں 81فیصد کمیونٹی کوریج کے ساتھ 93فیصد ویکسینیشن کوریج حاصل کی گئی جبکہ خسرہ-روبیلا مہم میں صوبے بھر میں 99 فیصد ہدف حاصل کرتے ہوئے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ ان مہمات میں شامل عملے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازیہ دینا بھی زیر غور ہے۔امیونائزیشن روڈمیپ کے تحت معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کا دسمبر 2027 تک 90فیصد کوریج کا ہدف رکھا گیا ہے، جوکہ 2026 کے آخر تک حاصل ہونے کی امید ہے۔

مزید پڑھیں