گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور سی اینڈ ڈبلیو اصلاحات کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے جمعہ کے روز صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاسوں میں ڈیجیٹائزیشن، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔چیف سیکرٹری نے دونوں محکموں کے الگ الگ جائزہ اجلاسوں کی صدارت کی جن میں صوبے بھر میں پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر کے پائیدار نظام اور سڑکوں کے بہتر انتظام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں سیکرٹریز پی ایچ ای اور سی اینڈ ڈبلیو سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پانی کے بلوں کی وصولی اور ریکارڈ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور موبائل و بینکنگ کے ذریعے ادائیگی کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں پانی کے معیار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا، جس میں ٹیسٹنگ کے دائرہ کار میں توسیع، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) کی بہتری اور بروقت اصلاحی اقدامات شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ مرمت اور دیکھ بھال کے کام شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں اور پانی میں مضر صحت اجزاء کی شمولیت کی وجوہات کو انفراسٹرکچر خامیوں کو دور کر کے حل کیا جائے۔ انہوں نے اضلاع کی سطح پر مستند ڈیٹا کی دستیابی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بجٹ کی بہتر تیاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔اجلاس میں پانی کی فراہمی کے نظام کو دیرپا بنانے کے لئے سروس ڈیلیوری، لیبارٹریز اور وسائل کے انتظام کے لئے علیحدہ یونٹس قائم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پانی کے تحفظ سے متعلق مجوزہ پائلٹ منصوبوں، جن میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا اور زیرِ زمین پانی کی سطح کی بہتری کے لئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اسی طرح جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت پانی کی فراہمی کی اسکیموں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور حتمی منصوبے تیار کرنے، مقامی مسائل حل کرنے اور مرحلہ وار عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے باہمی تعاون، بروقت فیصلوں اور کارکردگی کی نگرانی پر زور دیا تاکہ عوام کو بہتر پانی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جائزہ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو ہری پور، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم (رامز) کے نفاذ سے آگاہ کیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے سڑکوں کی حالت کا درست ڈیٹا حاصل ہوگا، جس کی بنیاد پر مرمت اور ترقیاتی فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں اور صحت کے مراکز کی عمارتوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع کرم میں تھل۔پاراچنار روڈ پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ منصوبے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایریل روپس وے ایکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد عوامی کیبل کار نظام کی تعمیر، نگرانی اور حفاظت کے لیے جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ قانون میں عوامی تحفظ اور بہتر سروس کی فراہمی کے لیے حکومتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں