خیبرپختونخواحکومت نے اپنے وسائل سے جاری توانائی منصوبوں سے پیداہونے والی سستی پن بجلی کی ترسیل کے سلسلے میں نیپراکی ہدایات کی روشنی میں ضلع سوات میں ایک نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے منصوبے کا فیصلہ کیاہے۔ پشاورالیکٹر ک سپلائی کمپنی (پیسکو) اورپختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے درمیان ضلع سوات میں 22کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے سلسلے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ منصوبے پر آئندہ چند روز میں تعمیراتی کام کا بھی جلد آغازہوجائیگا۔جس سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت اورآمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق،ایڈیشنل سیکرٹری پاوراینڈایڈمن انورخان شیرانی،چیف انجینئرحبیب اللہ شاہ سمیت پیسکوکے ڈائریکٹرجنرل MIRADعاطف جواد،چیف انجینئرڈیویلپمنٹ حبیب الرحمان اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پیڈوکے سوات کوریڈورمیں جاری پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل اورمٹلتان سوات سے بحرین تک 40کلومیٹرٹرانسمیشن لائن کے جاری منصوبے اوراسکے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیڈوکے آئندہ 2سے 5سالوں کے دوران مکمل ہونے والے پن بجلی منصوبوں کی تکمیل کے بعد بجلی کی موثر ترسیل یقینی بنانے کے سلسلے میں ضلع سوات میں مدین گرڈ سٹیشن سے لے کرخوازہ خیلہ گرڈ سٹیشن تک 22کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیرپر اتفاق کیا گیاہے جبکہ منصوبے کے تیکنیکی پہلوں کا جائزہ لینے کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدنے پیڈوکی ٹرانسمیش لائنوں کوبچھانے کے لئے آئندہ سالوں میں مکمل ہونے والے توانائی منصوبوں کے لئے گیم چینجرقراردیا جس سے صوبے کو اپناٹرانسمیشن نیٹ ورک دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کے لئے اہم سنگ میل قراردیا۔ انہوں نے پیسکواورپیڈوحکام کو منصوبے کی ریشنلائزیشن،ٹائم لائن اور لاگت کے عمل کو فوری طورپر مکمل کرنے پرزوردیا تاکہ عوامی فلاح کے منصوبے پر جلد کام کا آغاز کیا جاسکے۔واضح رہے کہ مذکورہ منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات نیپرا کے اوپن ایکسس ریگولیشن 2022 پروگرام کے تحت ادا کیے جائیں گے۔
