خیبر پختونخواکےوزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع مردان میں شعبہ تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جمعرات کے روزپشاور میں منعقدہ أن لائن اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر ضلع مردان سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی عبدسلام آفریدی،ظاہر شاہ طورو ،زرشاد خان اور میر فرزند سمیت سپیشل سیکرٹریز محکمہ تعلیم افتخارعلی خان اورمسعود احمد،ایڈیشنل سیکرٹری حیات خان،چیف پلاننگ آفیسرذین اللہ اورڈائریکٹرابتدائی وثانوی تعلیم بھی موجود تھے۔جبکہ ضلعی افسران نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پرضلع مردان کے تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل ،محکمہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈزکے اجرا،سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر،فرنیچر کی فراہمی،موجودہ طریقہ کار کے مطابق درجہ چہارم کے ملازمین کی بھرتی کے اموراورضلعی افسران کامنتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت کے ساتھ ایک ٹیم ورک کی شکل میں کام کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے ضلع مردان کے مردانہ وزنانہ تعلیمی افسران کوہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومت کے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں کی بھر پور نگرانی کریں۔اسی طرح ضلع مردان میں درجہ چہارم کی بھرتیوں کو حکومتی پالیسی کے مطابق شفاف انداز میں مکمل کریں۔انہوں نے سکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کی تعداد کاریشو اکٹھا کرنے اور سکولوں کی ریشنلازیشن کی تکمیل کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہا محکمہ تعلیم کاصرف ایک ڈائریکٹوریٹ ہے جسے مزید فعال بنانے کے لئے اضلاع کی سطح پر بھی ڈائیکٹوریٹ قائم کئے جائیں گے تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے سکولوں میں تقریبا 2500 اضافی کمرے تعمیر کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ ایشین ڈیوپلمنٹ بینک کے ذریعے بھی 10 ہزار کمرے تعمیر کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے 16 ہزار اساتذہ ایٹا اور 10 ہزار اساتذہ پول سے بھرتی کئے جارہے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اساتذہ کے تبادلوں پر مکمل پابندی ہے اور اس دوران کسی کا تبادلہ نہیں ہوگا۔
