خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے صوبے کے تمام بورڈز چیئرمین کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحان میں صوبے کے بچوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ہر ایک بورڈ اپنے اپنے اضلاع میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک پورٹل قائم کرے جس کے تحت امتحان کے حوالے سے بچوں کو درپیش مسائل اور شکایات کا حل کم وقت میں ممکن بنایا جاسکے اور اسی طرح سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کے دفتر میں بھی ایک کنٹرول روم بنایا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں آنے والے میٹرک کے امتحانات کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، سپیشل سیکرٹری افتخار علی خان جبکہ صوبے کے تمام اضلاع کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئر مینوں نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر تمام اضلاح کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں نے اپنے اپنے اضلاع میں میٹرک کے امتحانات کی تیاری کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں میٹرک کے امتحانات 100 فیصد شفاف نظام کے تحت ہوں گے اور ای پیپر اور ای مارکنگ کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حساس امتحانی حالوں میں سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں جہاں پر طلبہ کو امتحانی حالوں تک جانے میں دشواری درپیش ہو تو بورڈز ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی کریں گے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ میٹرک کے امتحانی حالوں میں کیمرے لگائے جائیں گے اور انہیں نیٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے تمام چیئرمین بورڈز کو ہدایت کی کہ میٹرک کے امتحان کا انعقاد کرنا ان کی ذمہ داری ہے اس لیے میٹرک کے امتحان کے عمل کو شفاف بنانے اور نقل کی روک تھام کرنے کے لیے بھر پوراقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک کے امتحان میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔اور تمام بورڈز میں معائنہ ٹیم بنائی جائے تاکہ وہ اچھے طریقے سے امتحانات کی نگرانی کرے انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک کے امتحان میں فل پروف نظام کے ذریعے انتظامات کیے جائیں جس سے بچوں کا قیمتی تعلیمی سال ضائع نہ ہو اور حکومت کی جانب سے سٹینڈرڈ اپریٹنگ پروسیجر کے گائیڈ لائن کے تحت امتحان صاف اور شفاف انداز میں لیا جائے۔
