
گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2026 اور 27 کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں، ان پر مالی پیش رفت، فنڈز کے اجرائ اور اب تک کی عملی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز عابداللہ کاکاخیل، سپیشل سیکریٹری فضل حسین اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ہدایت کی کہ تکمیل کے قریب یا مکمل شدہ سرکاری کالجز کے ترقیاتی منصوبوں کے باقی ماندہ مراحل پر کام تیز کیا جائے تاکہ ان تعلیمی اداروں کو جلد از جلد فعال بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فنڈز کے اجرائ کے باوجود اگر بعض منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے تو متعلقہ ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل یا حوالگی کے عمل میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ درپیش ہو تو اس کے حل کے لیے متعلقہ فورمز پر مؤثر انداز میں رجوع کیا جائے۔مشیر تعلیم نے سرکاری کالجز میں ضروری سہولیات کی فراہمی سے متعلق منصوبے کو آئندہ 15 مارچ تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی جبکہ کھیلوں کے سامان، مشینری اور دیگر آلات کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری کے بعد اسے ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے موجودہ کالجز کی مرمت اور اضافی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق ترقیاتی سکیم کو بھی جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیا۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کوالٹی ایشورنس پروگرام کے ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ پروگرام کے ملازمین کی تنخواہیں آئندہ جمعہ تک جاری کر دی جائیں گی۔مشیر تعلیم نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بدلتا خیبرپختونخوا کے 100 روزہ پلان میں شامل منصوبوں کی عملی پیش رفت پر مشتمل ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر جمعہ کو محکمہ کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے مختلف سرکاری جامعات کے ہاسٹلز میں سہولیات کی بہتری سے متعلق منصوبے کے تحت واش رومز، ڈائننگ ایریاز اور کامن رومز کی حالت بہتر بنانے کے لیے جامعات سے تجاویز اور ضروریات پر مبنی تفصیلات طلب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان تین بنیادی سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر لیاجائے جبکہ دیگر ضروریات بھی متعلقہ جامعات کی طلب کے مطابق حاصل کی جائیں۔اس موقع پر ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ سرکاری مالی وسائل کا استعمال ایسے بامقصد اور عوامی افادیت کے حامل ترقیاتی منصوبوں پر ہونا چاہیے جن کے ثمرات سے عوام حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی وسائل کو غیر ضروری یا غیر مؤثر منصوبوں پر صرف کرنے سے گریز کیا جائے اور محکمہ اعلیٰ تعلیم اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت، بروقت تکمیل اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
