خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ محکمہ تعلیم میں ڈیجیٹائزیشن نظام کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ معیار تعلیم سمیت دیگر امور میں بہتری پیدا ہواور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے ڈسٹرکٹس اور ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر کار کردگی میں اضافے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبے کے عوام کو محکمہ میں واضح طور پر بہتری کی جانب پیش رفت نظر آ نی چاہئے۔ یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز پشاور میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں منعقدہ بریفنگ اجلاس کے دوران دیں۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی وثانوی تعلیم محمد خالد خان چیف پلاننگ آفیسرذین اللہ، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نغمانہ سردار، محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ابتدائی وثانوی تعلیم نے صوبائی وزیر کو محکمہ کے مختلف امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اہداف کے حصول سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات، تعلیمی منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ سروس ڈلیوری کو مزید بہتر بنائیں اور جہاں کہیں سہولیات میں کمی ہو تو نشاندہی کرکے فوری طور پر ان کا ازالہ کریں۔انہوں نے تمام سرکل ایجوکیشن آفیسروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں محکم تعلیم سے وابستہ مسائل بروقت حل کریں۔ اگر اساتذہ یا محکمہ کے اہلکار اگر ان کے دفتر مسائل کے حل کیلئے آئے تواس بارے متعلقہ ا فسر سے پوچھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں کے لیے بیگز اور سٹیشنری کی خریداری کے عمل کی فوری طور پر معطلی کا احکامات جاری کئے اور آئندہ کے لیے ٹینڈرنگ ای بیڈ کے ذریعے کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹویٹ میں عوامی کمپلینٹ سیل کے پورٹل کو فعال کریں اور اس میں قانون کے مطابق عوام کے جائز مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ریٹائرمنٹ کے معاملات ا ضلاع کی سطح پر سات دن کے اندر اندر نمٹائے جائیں اور اس میں بھی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ای۔ریٹائرمنٹ کا نظام متعارف کیاجائے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ونگ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے صوبے میں کنسٹرکشن کے کام اور دیگر امور کی خود نگرانی اور دیکھ بھال کریں اور ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کریں۔اسی طرح محکمہ تعلیم کے لیٹی گیشن کے کیسوں کو میرٹ پر نمٹایا جائے اور تمام معاملات میں شفافیت لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان لائن ایکشن مینجمنٹ، ایٹا سکالرشپ،پی ٹی سی ا ساتذہ کی تعیناتی اور کلاس فور کی بھرتیوں کو بروقت یقینی بنائیں اور اس میں آسانی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمر زون کے علاقوں میں پانچ مہینوں کے لیے تقریبا 6000 ہزار ا ساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ضلع کی سطح پر میل اور فیمیل آفیسر ز کے لئے رہائش کی سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاح کے عوام سے روزانہ کی بنیاد پر دو بجے سے لے کر تین بجے تک فیس بک پرآن لائین ان کے مسائل سنیں اور انہیں حل کریں انہوں نے متعلق افسروں سے کہا کہ وہ عوام کے لئے اپنا رویہ میں نرمی لائیں اور عوام کے جائز کاموں کو فوری طور پر حل کریں کیونکہ ہمیں سفارش کے کلچر سے نکلنا ہوگا انہوں نے کہا کہ درس و تدریس ایک معزز اور اہم پیشہ ہے اور اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ عوام کا اس پر بھروسہ بحال ہو۔ انہوں نے کہا کہ سات ارب روپے کی خطیر رقم سے صوبے کے سکولوں کو فرنیچر فراہم کیا جائے گا
