خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے رجسٹریشن حاصل کر سکیں اور وہ تعلیمی شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹری محمد مسعود، منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی افتخار احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر پی۔ ایس۔ آر۔ اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پرائیوٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبے کے پرائیویٹ اداروں کی آن لائین رجسٹریشن اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے اور شکایات ڈش بورڈ پر باقاعدہ کمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم موجودہے جس کے ذریعے یہ شکایات حل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ادارے کی اپنی ویب سائیڈ بھی ہے اور سکولوں کے طلبہ کے سکول چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ اور مائی گریشن جیسے مسائل بھی ڈیجیٹائزڈ کیئے گئے ہیں اور ان کا باقاعدہ طور پر اتھارٹی کے پاس ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے ماتحت پرائیویٹ ادارے تجد یدی طریقہ کار میں آن لائین بینکنگ اور ایزی پیسہ کے ذریعے آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جی۔ آئی۔ ایس بیسڈ میپنگ آف رجسٹریشن سسٹم، فائن منیجمنٹ سسٹم اور موبائل ایپلیکیشنز جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہاکہ صوبے کے تمام پرائیویٹ اداروں میں موجود بچوں کی تعداد کے ساتھ ان اداروں کے لئے متعین طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور مسنگ سکولوں کی رجسٹریشن بھی کرائی جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے دور حاضر کی ایسی اصلاحات متعارف کریں جن کی بدولت صوبے کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم میسر ہو سکے اورایس۔ایل۔ او بیسڈ امتحانات اورٹریننگ کے ساتھ ساتھ کلسٹر سسٹم کے امتحانات کو مزید فعال بنایا جائے۔

مزید پڑھیں