خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ڈیڑھ ماہ کے محدود عرصے میں محکمے کی نمایاں کارکردگی سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کی حفاظت،تعلیمی اداروں اور معاشرے کو منشیات کے خطرناک ناسور سے بچانے کا تہیہ رکھتے ہوئے مثالی کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔ منشیات فروشوں،ڈیلرز،سمگلرز اور سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی اور 4 نومبر 2025 سے 15 جنوری 2026 کے دوران کل 91 کاروائیاں کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1762 کلوگرام منشیات برآمد کرکے 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ انھوں نے ان کاروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کل 91ایف آئی آرز درج ہوئے، جس میں 47کلوگرام آئس، تقریبا 1702کلوگرام چرس، تقریبا 12 کلو گرام ہیروئن تقریبا،1 کلو گرام افیون، 7 بوتل شراب اور911عدد نشہ آور گولیاں ضبط کی گئی اور 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔محکمہ اطلاعات کے اطلاع سیل،سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ تاریخ میں اتنی مقدار میں بڑی مقدار میں منشیات نہیں پکڑی گئیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم منشیات کے حوالے سے قوانین بھی سخت کررہے ہیں اور جرمانے بھی بڑھا رہے ہیں تاکہ ہماری نسلوں کو برباد کرنے والے بچ نہ سکیں اور سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں نئے ایکسائز پولیس اسٹیشن بھی قائم کررہے ہیں اور اور اگر کوئی بھی آفیسر یا اہلکار منشیات کے معاملات میں ملوث پایا گیا تو اسکو گھر بھیج دیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں انسداد منشیات کے حوالے سے آگاہی پروگرام شروع کریں گے اور اگر کسی بھی یونیورسٹی میں منشیات فروشی یا عادی طلبہ کا پتہ چلا تو وہاں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایکسائز میں پہلے ریہب والانظام نہیں تھا اب کوشش کررہے ہیں کہ عادی افراد کو ایکسائز کے ذریعے بحالی مراکز تک پہنچائیں۔ انھوں نے مزید کہا اگر کسی بھی بحالی ادارے یا ہسپتال میں اگر علاج کے بجائے کوئی اور مقصد معلوم ہوا تو ہسپتال اور عملے کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا آج ہی ان لائن کھلی کچہری کے موقع پر چھوٹے اور بڑے منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارؤائی کے احکامات جاری کیئے ہیں۔محصولات،ٹیکس ریکوری میں نومبر اور دسمبر کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کہ منشیات کی روک تھام کے علاوہ محکمہ ایکسائزکو صوبائی محاصل کی وصولی میں بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ محصولات کی بہتری، شفافیت، اور وصولیوں میں مؤثر کارکردگی کے تحت محکمے کی جانب سے دو ماہ نومبر اور دسمبر کے اعداد و شمار میں واضح اضا فہ آیا ہے۔نومبر اور دسمبرکے دو ماہ کے دوران 2025 میں 1013 ملین روپے کی وصولی ہوئی ہے۔ جو گزشتہ سال کے اسی دورانئے کے مطابق تقریبا 12 فیصد 113 ملین اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جو محکمے کی بہتر حکمت عملی، نگرانی اور فیلڈ کارکردگی کا نتیجہ ہیاور انشاء اللہ مالی سال 26-2025 کا مقررہ ہدف 7 بلین ہے اور مقررہ ہدف سے ذیادہ ریکوری کر لی جائیگی۔قانونی اصلاحات اور عوامی سہولیات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عوامی سہولت، شفافیت، بہتر حکمرانی اور ریونیو میں اضافے کے لیے متعدد قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو تیز، آسان اور شفاف خدمات فراہم کرنا اور قومی خزانے کے لیے محصولات کی وصولی کو مؤثر بنانا ہے۔اس سلسلے میں پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کا آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن کا نظام بھی محکمہ میں نافذ کیا گیا ہے جبکہ پروفیشنل ٹیکس کے آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی شکایات اور مسائل کے حل کیلئے اوپن ڈے کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کے تحت سینکڑوں شکایات کا ازالہ کیا گیا، شکایات ملنے پر متعدد افسران و اہلکار معطل کیئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آج سے پہلی ای کھلی کچہری کا آغاز کردیا گیاہے جس میں عوام نے بھرپور شرکت کرکے 46 لاؤ کال موصول ہوئیں۔عوام نے محکمہ کے حوالے سے تقریبا 280 تاثراتی پیغامات بھیجے جس پر بروقت احکامات جاری کئے گئے۔سید فخرجہان نے کہا کہ بہترین عوامی مفاد اور ریوینو میں اضافہ کیلئے گاڑیوں کے یونیک /پسندیدہ نمبر وں کا قانون پاس کر کے باقاعدہ آغاز کر دیا گیاہے، جس کی پہلی نیلامی 27 جنوری 2026 ہو گی۔اس طرح اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس کے تحت 4 لاکھ سے زائد پراپرٹیز ڈیجیٹلائز کی گئی جبکہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 13 شہروں میں GIS سروے مکمل ہوا ہے۔
