وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں منشیات کے خلاف جاری کاروائیوں میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کو ایک اہم کامیابی ملی ہے جس کے تحت ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقوں میں محکمہ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے تاریخ کی بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی۔کاروائی کے دوران بھاری مقدار میں مختلف اقسام کی منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
مذکورہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 718,060 گرام منشیات برآمد کر کے ضبط کی گئیں جن میں 615,500 گرام بھنگ، 18,100 گرام آئیس، 1,160 گرام ہیروئن، 13,300 گرام افیون، 70,000 گرام چرس اور 18 ایکسٹیسی گولیاں شامل ہیں۔
کارؤائی سعود خان گنڈاپور (پراونشل انچارج، ایکسائز انٹیلیجنس بیورو) اور ماجد خان (ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، نارکوٹکس کنٹرول) کی زیر نگرانی، ماجد حسین (ایس ایچ او، تھانہ ایکسائز خیبر) اور ابوذر خان (ای آئی بی موبائل اسکواڈ) نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے عمل میں لائی جس میں برآمد کیئے گئے منشیات کو ضبط کیا گیا اور ملوث ملزمان کے خلاف مزید تفتیش کے لیے تھانہ ایکسائز خیبر میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیئے ہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ اس ناسور سے معاشرے اور نئی نسل کو ہم نے بچانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت منشیات کے ڈیلرز،سمگلرز،فروشان اور کاروبار کرنے والوں کے خلاف جاری آپریشن جاری رہے گا اور منشیات کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا ہے جائیں گے۔عوام کے جان و مال کے تحفظ اور نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا
