مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پیٹرولیم لیوی، نان ٹیکس ریونیو اور ملکی قرضہ جات سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.7 ٹریلین روپے جمع کرنے کا امکان ہے یہ رقم قابلِ تقسیم پول (Divisible Pool) کا حصہ نہیں ہوتی اسی طرح رواں سال حکومت کے 5.6 ٹریلین روپے نان ٹیکس ریونیو حاصل کرنے کی توقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈز دوبارہ وفاقی حکومت ہی اپنے پاس رکھتی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ صوبوں کو بڑا حصہ ملتا ہے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے ایک سال دوران حکومت کے قرض میں 6,800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے حکومت نے ایک مہینے میں 566 ارب اور دن کا 18.66 ارب قرض لیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اپریل 2022 رجیم چینج کے بعد چار سال میں حکومت کے قرض میں 37,000 ارب کا اضافہ ہوا اور حکومت نے فی مہینہ 770 ارب روپے کی رفتار سے قرض لیا اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر 25.3 ارب روپے قرض لیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 3.5 سالہ دور میں 18,500 ارب روپے قرض میں اضافہ ہوا جو اوسطاً ایک مہینہ میں شہباز شریف کے 770 ارب روپے کے مقابلے میں 440 ارب روپے ہے اور روزانہ بانی پی ٹی آئی عمران خان حکومت کے قرض میں 14.48 ارب کی رفتار سے اضافہ ہوا جبکہ شھباز شریف حکومت کے دور میں 25.3 ارب کی رفتار سے اضافہ دیکھا گیا پس ملکی قرض جات کی رفتار سے دونوں کی کارکردگی صاف ظاہر ہوتی ہے۔
