مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا حکومت کے گندم پریکیورمنٹ کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی گندم خریداری کے دوران اگر پنجاب حکومت نے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کی اور گندم آمدورفت کیلئے راستے بند کئے تو پھر خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت سے گندم درآمد کرنے کیلئے اجازت طلب کرے گی۔ خیبر پختونخوا حکومت دو دن بعد 20 مئی سے دو لاکھ پچیس ہزار ٹن گندم براہ راست زمینداروں سے خریدنے جارہی ہے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے وسائل سے 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم کی خریداری کرے گی اور زمینداروں کو گندم کی قیمت 24 گھنٹے کے اندر مال سپلائی کے بعد کی جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے تمام سرکاری گودام 100 فیصد گندم سے بھرے گی تاکہ گندم آف سیزن میں عوام کو سستے نرخ پر گندم اور آٹا فراہم کیا جا سکے۔ ایک دوسرے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے شہباز شریف حکومت کی معاشی کارکردگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف شہباز شریف حکومت مسلسل پانچواں بجٹ پیش کرے گی جبکہ دوسری طرف مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے مسلسل چار بدترین سال پورے ہوں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ تین آئی ایم ایف پروگرامز، اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت اور دوست ممالک سے بھاری مالی معاونت کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کم ترین سطح پر رہی اور شہباز شریف حکومت کے چار سالوں میں کریڈٹ ریٹنگز خراب رہیں۔ اس دوران عالمی قرضہ اور سرمایہ مارکیٹس میں پاکستان کی موجودگی صفر رہی۔
