مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت پشاور ناردرن بائی پاس منصوبہ پر مزید پیشرفت کیلئے ایک اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ عدیل شاہ، کمشنر پشاور ریاض محسود، ڈپٹی کمشنر پشاور ثناء اللہ خان، ہیڈ ڈیبٹ منیجمنٹ یونٹ خیبرپختونخوا عبدالقیوم، ممبر نارتھ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پراجیکٹ ڈائریکٹر ناردرن بائی پاس کے حکام شریک تھے جبکہ زوم پر وزیراعظم انسپکشن ٹیم کے افسران اور وزرات مواصلات کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ نادرن بائی پاس وفاقی منصوبہ خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور کیلئے گیم چینجر ہے جو وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز عدم فراہمی کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھا جس کیلئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو قرض دے کر بریج فنانسنگ سے مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی حکام کو ٹاسک دیا گیا کہ 3 ارب90کروڑ روپے کے چار پیکیجز بنائے جائیں گے کسی بھی پیکیج کی تکمیل پر فنڈز فوری ادا کئے جائیں گے جس کیلئے بینک گارنٹی بھی موجود ہوگی۔اجلاس میں تجویز دکیا گیا کہ محکمہ خزانہ و محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا، وزیراعظم آفس اور وزرات مواصلات اسلام آباد کے درمیان ایک معاہدہ ہوگا جس میں صوبائی حکومت کی طرف سے ناردرن بائی پاس منصوبہ کیلئے بریج فنانسنگ اور بینک گارنٹی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا اور طے کیا جائے گا کہ وفاقی حکومت اس بریج فنانسنگ کے فنڈز کو خیبرپختونخوا حکومت کو کس طریقہ کار کے تحت واپس کرے گی۔
