پاکستان گورننس فورم مشترکہ عزم کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اچھی حکمرانی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ فنکشنل گوڈ گورننس سے پہچانی جاتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم 2026 میں شرکت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو پورے پاکستان میں گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو یکجا کرتا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خیبرپختونخوا گورننس اصلاحات میں کسی بھی صوبے سے پیچھے نہیں۔ معزز وزیر اعلیٰ کی قیادت میں اچھی حکمرانی کو ایک منظم اصلاحاتی ایجنڈا کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے ادارہ جاتی تبدیلی، ڈیجیٹل جدت اور مالی نظم و ضبط کی حمایت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے پانچ سالہ ڈیجیٹائزیشن منصوبہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا۔ تقریباً 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائزیشن کے لیے شناخت کیا گیا جس میں سے 56 خدمات مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور 73 خدمات میں الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے۔ مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے کیش لیس پبلک فنانس نظام کی طرف واضح پیش رفت کی ہے۔ صرف جنوری 2025 میں 2,51,214 سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور 1,15,648 پنشنرز کی پنشن مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے ادا کی گئیں، جو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ سراغ لین دین ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک اہم اصلاح قرضہ جاتی نظم و نسق فنڈ کا قیام ہے، جو پاکستان میں صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ساتھ کے پی آر اے کی محصولات اصلاحات کے ذریعے صوبائی مالی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جن میں جی آئی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکسیشن، ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اینالیٹکس پر مبنی نفاذ شامل ہے۔ ان اصلاحات نے ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا ہے۔ نتیجتاً خیبرپختونخوا کی اپنی آمدن دو سال میں دوگنی ہو کر 65 ارب روپے سے 129 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس اور ریگولیٹری نگرانی کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ، جو مارچ 2026 میں تکمیل کے قریب ہے، اور اے این پی آر و آر ایف آئی ڈی پر مبنی خودکار گاڑی شناختی نظام پولیسنگ کو پیشگی اور انٹیلی جنس پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود 8,179 مدارس میں سے 1,300 سے زائد مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی انضمام اور شفاف نگرانی کی جانب اہم قدم ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح صوبے بھر میں نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کی میپنگ اور پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے، اور اب انہیں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے دستاویزی اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا اوٹ آف سکولز بچوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور 1,500 کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع ہے جبکہ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے 90 فیصد اساتذہ حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ 250 صحت مراکز کو 24/7 زچگی خدمات کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ 54 ہسپتالوں کو بہتر انتظامی ماڈلز پر منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس — ڈیجیٹل خیبرپختونخوا ڈیجیٹل تبدیلی اصلاحات کا مرکزی ستون ہے۔ آن لائن سرکاری خدمات کی توسیع، ای آفس سسٹمز کی مضبوطی، اور مختلف محکموں میں ای-پروکیورمنٹ کا نفاذ جاری ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات شہری پلیٹ فارمز جیسے دستک انیشی ایٹو کے ذریعے آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریگولیٹری و انتظامی جدیدیت کیلئے خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے کئی اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں وہیکل اسمارٹ کارڈز کا اجرا، پراپرٹی ٹیکس ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن، اوپن آکشن کے ذریعے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (IDC) کی کامیاب وصولی، جس سے 1.16 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں