خیبرپختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیر صدارت آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس گزشتہ روز محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد بختیار خان، سپیشل سیکرٹری خزانہ خالد اقبال، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد عمران، مختلف محکموں کے افسران کے علاوہ آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں اخبارات کے طویل عرصے سے زیر التواء اشتہاری واجبات کا جائزہ لینا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنا شامل تھا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد بختیار خان نے بتایا کہ اخبارات کے واجبات 1987 سے زیر التواء ہیں اور محکمہ اطلاعات نے اس سلسلے میں ضروری ہوم ورک مکمل کر کے معاملہ ورک آؤٹ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2025 تک کل واجبات کی رقم 1.4 ارب روپے بنتی ہے، جس کے بعد مختلف محکموں کے ساتھ بلوں کی تصدیق (reconciliation)کی گئی ہے۔ اس میں سے 798 ملین روپے کی بلوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 571 ملین روپے کی بلوں کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ محمد بختیار خان نے مزید بتایا کہ تصدیق شدہ فنڈز میں سے 94 ملین روپے اخبارات کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رقم ابھی اخبارات کو ادا کرنے ہیں۔ مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ اخبارات کو بقایاجات کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ مسئلہ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے، جس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ مشیرِ خزانہ نے محکمہ خزانہ اور محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اخبارات کے اشتہاری واجبات کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر سپلیمنٹری گرانٹس کی سمری ارسال کی جائے تاکہ بروقت صوبائی کابینہ سے منظوری حاصل کر کے اخبارات کا یہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔
