ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کہا ہے کہ ناقص اور غیر معیاری خوراک انسانی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے اور اس جرم میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی عوام کے تحفظ کے لیے ملاوٹ مافیا، غیر معیاری اور مضر صحت خوراک میں ملوث افراد کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈائریکٹر آپریشنز محمد یوسف کے ہمراہ ضلع ملاکنڈ کے اچانک دورے کے دوران کیا۔ اس موقع پر ملاکنڈ فوڈ سیفٹی انسپکشن ٹیم بھی ہمراہ تھی۔ دورے کے دوران ملاکنڈ میں مختلف علاقوں میں قائم ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، دودھ کی دکانوں، گھی و آئل ملز اور دیگر خوراک سے متعلق مراکز کا معائنہ کیا گیا۔معائنے کے دوران متعدد فوڈ بزنس پوائنٹس پر حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بہتری کے نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ دو گھی ملز و تیل کے کارخانوں سے نمونے حاصل کرکے تجزیے کے لیے فوڈ اتھارٹی کی پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ حیات کو ارسال کر دیے گئے۔ فوڈ بزنس مالکان کو ہدایت کی گئی کہ رپورٹس موصول ہونے پر اگر اشیاء ناقص یا غیر معیاری ثابت ہوئیں تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے عوام، میڈیا اور فوڈ بزنس سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ محفوظ اور معیاری خوراک کے فروغ کے لیے فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور غیر معیاری و مضر صحت خوراک میں ملوث کاروباروں کو فوڈ اتھارٹی کے نوٹس میں لائے ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی تعاون کے سے ہی غیر معیاری خوراک کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں فوڈ اتھارٹی کی زیر اہتمام جدید مشینوں سے آراستہ صوبائی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کی جا چکی ہے، جس کے باعث اب نمونے دیگر صوبوں کو بھجوانے کی ضرورت نہیں رہی۔ جدید سائنسی بنیادوں پر صوبائی سطح پر ہی فوڈ ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔کاشف اقبال جیلانی کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں ناقص و غیر معیاری اشیاء کے خلاف روزمرہ کارروائیوں کیساتھ اچانک دوروں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا تاکہ ملاوٹ مافیا جیسے عناصر کا خاتمہ ممکن ہو سکے
