“جنگلات محض درخت نہیں، زمین، پانی اور دیگر وسائل کے درمیان توازن ہیں ”— جنید خان

محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا صوبے کے جنگلاتی وسائل کے تحفظ، قانونی حیثیت کے واضح تعین اور دہائیوں سے چلے آ رہے تنازعات کے پائیدار حل کے لیے ایک جامع، سائنسی اور دور اندیش حکمتِ عملی کے تحت مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں جنگلات کی ازسرِنو حدبندی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس جنید خان، سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں طلحہ حسین فیصل، سپیشل سیکرٹری، محمد جنید دیار، پراجیکٹ ڈائریکٹر 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ، احمد جلیل چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون، شوکت فیاض چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو، اصغر خان چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری، خیال صدیق آفیسر انچارج سروے آف پاکستان، جبکہ محکمہ جنگلات اور سروے آف پاکستان کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلات جنید خان نے کہا کہ محکمہ جنگلات اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زمین، پانی، فضا اور انسانی زندگی کے مابین ایک نازک اور ہمہ گیر توازن کا نام ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو قانون، مشاورت اور انسانی وقار کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ جہاں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں وہاں عدالتی عمل کے مکمل احترام کے ساتھ مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ جہاں باؤنڈری پلرز کی تنصیب کے لیے مالی وسائل درکار ہیں وہاں متعلقہ فورمز پر فنڈز کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔سیکرٹری جنگلات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا تمام متعلقہ اداروں، ریونیو محکمے، ضلعی انتظامیہ اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جنگلاتی حدود کے تعین کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاوش محض زمین پر لکیر کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ قدرتی ورثے کے تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور ریاستی رِٹ کے مضبوط قیام کی ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی ہر حد، ہر ستون اور ہر نقشہ دراصل اس اجتماعی عہد کی علامت ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنے ماحول اور اپنے مستقبل کو بے نام و نشان ہونے نہیں دیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو شوکت فیاض نے بتایا کہ اسی سلسلے میں سروے آف پاکستان کے تعاون سے شمالی جنگلاتی خطہ ریجن-II ایبٹ آباد (ہزارہ فارسٹ ریجن) سے منسلک مختلف جنگلاتی ڈویژنز میں محفوظ شدہ (ریزرو) جنگلات کی ازسرِنو حدبندی کا ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جدید سائنسی اور تکنیکی پیمانوں کے مطابق جنگلاتی حدود کو واضح کرنا اور سرکاری و عوامی ریکارڈ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہری پور، گلیات، سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل فارسٹ ڈویژنز میں مجموعی طور پر تین لاکھ ستاسی ہزار ایکڑ سے زائد جنگلاتی رقبہ قانونی درجہ بندی کے دائرے میں آتا ہے، جس میں محفوظ اور گزارہ جنگلات شامل ہیں۔ مختلف ادوار میں سروے آف پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کی مالی معاونت 10 بلین ٹری سونامی پروگرام، بلین ٹری افاریسٹیشن پروگرام اور سائنٹیفک فارسٹ مینجمنٹ جیسے قومی منصوبوں کے ذریعے فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ازسرِنو حدبندی کے نتیجے میں متعدد فارسٹ ڈویژنز میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہری پور فارسٹ ڈویژن میں تقریباً انتیس ہزار ایکڑ رقبے کی حدبندی مکمل کی گئی، جہاں تجاوزات کی نشاندہی اور جزوی بازیابی بھی عمل میں لائی گئی۔ گلیات فارسٹ ڈویژن میں حدبندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہزاروں باؤنڈری پلرز کی تعمیر و بحالی کے ذریعے جنگلاتی حدود کو عملی طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل میں بھی ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگلات کی حدبندی کی گئی، جس سے پہلی مرتبہ ان علاقوں میں جنگلاتی سرحدوں کی سائنسی بنیادوں پر واضح نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس اہم قومی منصوبے کے دوران بعض سنگین چیلنجز سامنے آئے ہیں، جن میں جنگلاتی اور ریونیو ریکارڈ میں فرق، دہائیوں پرانے تجاوزات، عدالتی مقدمات، دشوار گزار اور دور افتادہ پہاڑی علاقوں تک رسائی کی مشکلات، اور بعض مقامات پر فنڈز کی بروقت فراہمی میں تاخیر شامل ہیں، جنہوں نے منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔اجلاس کے دوران چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری اصغر خان نے ملاکنڈ ڈویژن میں جنگلات کی حدبندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دیر، سوات اور چترال میں جنگلات کی حتمی حدبندی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جہاں مقامی آبادی کی جانب سے بعض خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے ازالے کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی سطح پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ مشاورت کے ساتھ ان علاقوں میں سروے اور حدبندی کا عمل شروع کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری محکمہ جنگلات جنید خان نے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں سروے آف پاکستان کی جانب سے کام تاحال باقی ہے، وہاں متعلقہ فریقین کے مابین جلد علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ پورے صوبے میں جنگلاتی رقبے کو مؤثر، شفاف اور دیرپا تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں