خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ماحول دوست ترقی، پائیدار شجرکاری اور جنگلی حیات کے تحفظ و افزائشِ نسل کے فروغ کے لیے ایک اہم اجلاس سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر اپ سکیلنگ گرین پاکستان محمد جنید دیار، کنزرویٹر وائلڈ لائف حسین خان سمیت محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں موسمِ بہار شجرکاری مہم کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر محمد جنید دیار نے جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی اضلاع جن میں کوہاٹ، کرک، ہنگو، لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور قبائلی اضلاع شامل ہیں میں لاکھوں نئے پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف سرسبز ماحول کی تشکیل ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا سدِباب اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔کنزرویٹر وائلڈ لائف حسین خان نے اجلاس کو مختلف اضلاع میں جنگلی چرند و پرند کی موجودہ صورتحال، قدرتی مساکن کے تحفظ اور افزائشِ نسل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نایاب انواع کے تحفظ کے لیے محفوظ علاقوں، بریڈنگ زونز اور قدرتی رہائش گاہوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنید خان نے کہا کہ جس طرح ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت پشاور کے گردونواح خصوصاً گھڑی چندن میں کامیاب جنگلاتی ماڈل تشکیل دیا گیا ہے، اسی طرز پر لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر جنوبی اضلاع میں بھی ماڈل فارسٹ قائم کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت گومل زام ڈیم اور کوہِ سلیمان کے علاقوں میں جنگلاتی اور جنگلی حیات کے مربوط منصوبے ترتیب دیے جائیں تاکہ ان خطوں کو ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکے۔مزید برآں، سیکرٹری جنگلات نے زور دیا کہ جن علاقوں میں نہری نظام یا آبپاشی کے روایتی ذرائع دستیاب نہیں، وہاں جدید سولر بیسڈ شجرکاری نظام متعارف کرایا جائے تاکہ پانی کی کمی کے باوجود سبزہ کاری کا خواب شرمند? تعبیر ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور آئندہ نسلوں کے لیے سرسبز مستقبل کی تعمیر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔
