سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیر صدارت جنگلاتی نظم و نسق اور پائیدار فارسٹ مینجمنٹ سے متعلق پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد حکومت اور جنگلاتی مالکان کے درمیان براہِ راست مکالمہ، مسائل کا فوری حل اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا تھا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون احمد جلیل، ریجن ٹو شوکت فیاض، ریجن تھری اصغر خان، متعلقہ کنزرویٹرز آف فاریسٹ کے علاوہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی مالکان کے نمائندگان سمیت مقامی سطح پر درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ضلع بٹگرام سے رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان اور چترال ارندو سے معروف سماجی شخصیت شیر زمین نے بھی شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران جنگلاتی مالکان نے مختلف علاقوں میں مانیٹرنگ، مارکنگ، ووڈلاٹس اور ورکنگ پلانز کی مدت پوری ہونے یا تکمیل کے قریب ہونے، نیز انتظامی رکاوٹوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنگلات جنید خان نے عمائدین کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام معاملات میں قانون کی پاسداری، شفافیت اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کا مقصد احتساب کے ساتھ اصلاحِ احوال اور نظام کی بہتری ہے، نہ کہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں میں وقت اور وسائل ضائع کرنا۔سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ 1992ء میں سائنسی بنیادوں پر جنگلاتی کٹائی پر عائد پابندی کے باعث صوبے کے جنگلاتی انتظام اور مالی استحکام کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ محکمہ جنگلات یکطرفہ فیصلے کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری سے لے کر نگرانی کے لیے نہگبانوں کی تعیناتی، گھریلو ضروریات کی فراہمی اور ورکنگ پلان کے تحت تجارتی کٹائی تک ہر مرحلے میں مقامی آبادی کو شریکِ کار بنایا جاتا ہے، کیونکہ پائیدار ترقی عوامی شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ 24 جون 2024ء کو عائد کی گئی عارضی پابندی کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض بے ضابطگیوں کی شکایات کے پیش نظر اصلاحی نگرانی کے لیے لگائی گئی تھی، جسے 12 نومبر 2024ء کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مقررہ قوانین و ضوابط کے تحت دوبارہ کٹائی اور ترسیل کا عمل بحال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی فارسٹ مینجمنٹ جنگلات کے پائیدار تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے، جو فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 35 کے تحت مضبوط قانونی بنیاد رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو جلد تفصیلی بریفنگ دی جائے گی تاکہ پالیسی سطح پر مزید رہنمائی حاصل کی جا سکے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نادرن فاریسٹ ریجن ٹو میں موجود 24 ورکنگ پلانز میں سے 13 منظور شدہ اور فعال ہیں، 9 منظوری کے مرحلے میں جبکہ 2 تیاری کے مراحل میں ہیں۔ سال 2015ء سے اب تک ایک کروڑ 17 لاکھ 22 ہزار مکعب فٹ لکڑی کی مارکنگ مکمل کی جا چکی ہے۔ بعض کمپارٹمنٹس میں تاخیر کی وجوہات میں عدالتی مقدمات اور مقامی سطح پر تنازعات شامل ہیں۔سیکرٹری جنید خان نے ہدایت کی کہ میعاد پوری کرنے والے ورکنگ پلانز کی فوری نظرثانی کی جائے اور اس مقصد کے لیے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کو درکار فنڈز مہیا کیے جائیں۔ مزید برآں، جن ورکنگ پلانز کی مدت ختم ہو چکی ہے یا تکمیل کے قریب ہے، ان میں توسیع کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تاکہ جنگلاتی مالکان کو بروقت سہولت اور اعتماد فراہم کیا جا سکے۔خشک کھڑے اور آندھی سے گرے ہوئے درختوں کی ترسیل سے متعلق بتایا گیا کہ یہ عمل منظور شدہ ورکنگ پلانز کے تحت جاری ہے۔ گزارہ جنگلات کے لیے خصوصی طریقہ کار پہلے ہی مرتب کیا جا چکا ہے، جبکہ کوہستان کے جنگلات سے متعلق معاملہ صوبائی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر چترال ارندو گول سے تعلق رکھنے والے شیر زمین نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ بیس برسوں سے قیمتی درخت جنگلات میں گل سڑ رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگ انہیں قدرتی آفات اور سرحد پار سمگلنگ سے بچانے کے لیے دن رات نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ اس پر سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ ارندو گول کا معاملہ صوبائی حکومت کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے اور اسے جلد صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔سیکرٹری جنگلات نے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کے کردار کو موجودہ حالات میں نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ جنگلاتی منصوبہ بندی اور نگرانی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جسے انسانی وسائل اور مالی معاونت کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ جنگلاتی ریکارڈ اور نقشہ جات میں تضادات کے ازالے کے لیے فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ایک جامع پی سی ون تیار کیا جا چکا ہے جبکہ ڈیجیٹائزیشن اور جیو ریفرنسنگ منصوبہ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس سے شفافیت اور جدید نظم و نسق کو فروغ ملے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 36 اور 44 کے تحت جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی ممنوع ہے۔ تاہم نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس کے پائیدار انتظام کے لیے مقامی برادری کو محکمہ جنگلات اور جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ کمیٹیز کے اشتراک سے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایکو ٹورزم رولز اور کان کنی کے لیے ایس او پیز تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ یہ ادارہ ماضی میں سائنسی بنیادوں پر کٹائی اور آمدن کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ طویل المدتی پالیسی پابندیوں کے باعث ادارے کو چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ستمبر 2023ء میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کے ذریعے تیسری پارٹی کارکردگی جائزہ رپورٹ تیار کی گئی، جسے متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا اور اس میں مقامی برادری کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر سیکرٹری جنید خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مانیٹرنگ شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کا بنیادی ستون ہے اور اس کے نتیجے میں اصلاحی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت، جنگلاتی مالکان اور مقامی آبادی کے باہمی اشتراک کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ ہماری آب و ہوا کے محافظ، حیاتیاتی تنوع کے امین اور قومی ورثے کے نگہبان ہیں اوران کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
